کتا اگر مسجد کی دری، مصلے پر بیٹھ جائے توطہارت کا حکم

کتا اگر مسجد کی دری، مصلے پر بیٹھ جائے توطہارت کا حکم

سوال:مفتی صاحب ، حرام جانور مثلاً کتا بلی وغیرہ مسجد میں داخل ہو جائیں اور صفحوں پر یا امام کے مصلے پر بیٹھ جائیں یا پھر کسی نمازی کے جسم کپڑے سے لگ جائیں یا کسی کی گود میں بیٹھ جائیں تو پاکی ناپاکی اور نماز کا کیا حکم ہو گا؟

(سائل:محمدمہربان شیرو)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں کتے بلی وغیرہ کے محض مسجد میں داخل ہونے اور دری چٹائی یا امام کے مصلے پر بیٹھنے یا کسی کے کپڑوں جسم سے لگ جانے کے سبب دریاں ،مصلی اور کپڑے وغیرہ ناپاک نہیں ہوں گے اگرچہ انکا جسم تر ہو، ہاں اگر انکے جسم پر کوئی نجاست لگی تھی جسکا اثر مصلے کپڑوں وغیرہ پر ظاہر ہو گیا یا کُتے کا لعاب لگ گیا تو اب وہ چیز ناپاک ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں قاضیخان کے حوالے سے ہے : إذا نام الكلب على حصير المسجد إن كان يابسا لا يتنجس وإن كان رطبا ولم يظهر أثر النجاسة فكذلك. كذا في فتاوى قاضي خان. یعنی اگر کتا مسجد کی چٹائی پر سویا تو اگر اُسکا بدن خُشک ہونے کی صورت میں چٹائی ناپاک نہیں ہو گی،اور اگر اُسکا بدن تر تھا اور نجاست کا کوئی اثر چٹائی پر ظاہر نہ ہوا تب بھی یہی حکم ہے۔

[الفتاوى الهندية، الباب السابع في النجاسة ،الفصل الثالث، ٤٨/١]

بہار شریعت میں ہے : کُتّا بدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگرچہ اس کا جِسْم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب لگے تو ناپاک کر دے گا۔ (بہار شریعت ، نجاست کا بیان، جلد 1 ، حصہ 2 ، مکتبۃالمدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

03 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 10 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں