قادیانی سے خرید و فروخت اور علاج معالجہ

قادیانی سے خرید و فروخت اور علاج معالجہ

سوال:مفتی صاحب ، کسی قادیانی سے کوئی چیز خریدنا یا قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرانا کیسا؟

(سائل :حافظ شعیب)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

شرعاً حضور علیہ السلام کو آخری نبی ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے، جو اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اگرچہ لاکھ مرتبہ اپنے مسلمان ہونے کا دعوی کرے ، لہذا مرزا غلام احمد قادیانی کو کسی بھی قسم کا نبی ماننے اور اسکی تائید کرنے والے سارے قادیانی دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہیں۔

کفار کی اقسام میں سے سب سے زیادہ بدترین کفار، مرتدین ہیں، انکے ساتھ کسی بھی قسم کا معاملہ یا سلوک جو مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یا دیگر ذمی کفار وغیرہ سے کیا جاتا ہے، کرنے کی شرعاً اجازت نہیں، جیسےحرام جانوروں کے بنسبت سوئر و خنزیر کے احکام سخت ہیں بالکل ایسے ہی دیگر کفار کے مقابلے میں مرتدین مرزئیوں وغیرہ کے احکام جدا اور سخت ہیں، لہذا کسی بھی قادیانی سے خرید و فروخت یا علاج معالجہ کرانا جائز نہیں۔

البحرالرائق میں مرتدین کے احکام کے متعلق ہے : ومن أحكامه أنه لا عاقلة له لأنها للمعونة وهو لا يعاون كذا في البدائع وقد مضى في باب نكاح الكافر وقوع الفرقة بردة أحد الزوجين وفي المحرمات أنه لا ينكح ولا ينكح وسيأتي أنه لا يرث من أحد لانعدام الملة والولاية فقد ظهر أن الردة أفحش من الكفر الأصلي في الدنيا والآخرة وأطلق في القتل فشمل الحر والعبد…. وفي شرح المجمع معزيا إلى الحقائق ولا تجالس ولا تواكل ولا تباع. [البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ١٣٨/٥]

فتاوی رضویہ میں ہے:مرتدکے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافر ذمی کے مانند بھی برتنا جائز نہیں، مسلمانوں پر لازم ہے کہ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہ تمام معاملات میں ا سے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 24 ،صفحہ320،رضافاؤنڈیشن)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

23 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 30 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں