عورت کو اعتکاف کے لیے شوہر کی اجازت

عورت کو اعتکاف کے لیے شوہر کی اجازت

سوال:مفتی صاحب، رمضان میں بیوی اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو کیا شوہر کی اجازت ضروری ہے، گر شوہر اعتکاف میں بیٹھنے سے منع کرے تو کیا شوہر گنہگار ہو گا؟

(سائل:محمد یاسر مغل)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ، لہذا عورت شوہر کی اجازت سے ہی اعتکاف میں بیٹھے اور اگر شوہر منع کرے تو اب اعتکاف میں نہ بیٹھے، نیز شوہر کو یہ اختیار ہے کہ وہ عورت کو اعتکاف سے منع کرے ، منع کرنے سے شوہر گنہگار نہیں ہو گا۔

علامہ علاؤالدین سمرقندی فرماتے ہیں : وليس للمرأة أن تعتكف بدون إذن زوجها وكذلك العبد فإن أذن الزوج لها في الاعتكاف فاعتكفت ليس له أن يرجع. یعنی عورت کے لیے دُرست نہیں کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف کرے ، ایسے ہی غلام کے لیے بھی، پس اگر شوہر نے عورت کی اعتکاف کی اجازت دے دی ،اور عورت اعتکاف بیٹھ گئی تو اب شوہر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی اجازت سے پھرے۔ [السمرقندي، علاء الدين، تحفة الفقهاء، كتاب الصوم ، باب الإعتکاف ، ٣٧٥/١]

علامہ سراج الدین ابن نجیم مصری فرماتے ہیں: وذات الزوج لا تعتكف إلا بإذنه. یعنی شوہر والی عورتیں ،شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف نہیں کر سکتیں۔ [سراج الدين، النهر الفائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصوم، باب في الإعتكاف ، ٤٥/٢]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

21 رمضان المبارک 1445ء 01 اپریل 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں