سحری کے وقت کھائی چیز کا ذائقہ فجر کے بعد بھی حلق میں محسوس ہو رہا ہو تو روزے کا حکم
سوال:مفتی صاحب، سحری کا وقت ختم ہونے سے 12 منٹ پہلے منہ میں دوائی لگائی، کلی غرارے وغیرہ کر کے بہت کوشش کی کہ دوائی کا ذائقہ گلے سے ختم ہو جائے لیکن سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد تک بھی دوائی کا ذائقہ گلے میں محسوس ہوتا رہا، اس حالت میں روزے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
(سائل:اظہر حسین)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
بوقت سحری کسی چیز کو کھایا اور پھر بحالت روزہ حلق میں اُس کھائی ہوئی چیز کا ذائقہ محسوس ہوا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ بعینہ وہی چیز نہیں ہوتی بلکہ اُس کھائی ہوئی چیز کا اثر ہوتا ہےجو بعض اوقات دیر تک رہتا ہے۔
امام فخر الدین زیلعی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ما يجده في حلقه أثر الكحل لا عينه فلا يضره كمن ذاق الدواء ووجد طعمه في حلقه . یعنی جو حلق میں محسوس ہوتا ہے وہ سُرمے کا اثر ہوتا ہے ،بعینہ سُرمہ نہیں،پس یہ اثر روزے کو نُقصان نہیں پہنچاتا، جیسے کسی نے دوائی چکھی اور اُسکا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا ۔
[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،کتاب الصوم ، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، ٣٢٣/١]
علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : فما وجد في حلقه من طعمه إنما هو أثره لا عينه. یعنی حلق میں جو کھانے کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے ،وہ اُس چیز کا اثر ہوتا ہے، بعینہ وہی چیز نہیں۔
[بدر الدين العيني، البناية شرح الهداية،کتاب الصوم، صوم رمضان، باب ما لا یفطر الصائم،٤١/٤]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
26 رمضان المبارک 1445ء 06 اپریل 2024ھ