رُخصتی سےقبل طلاق اور دوبارہ نکاح کے احکام
سوال:مفتی صاحب ، نکاح ہوا رخصتی نہ ہوئی اور طلاق ہوگئی، اب دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے آپس میں؟
(سائل :غلام مرتضی وٹو)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے ایک یا دو طلاقیں دیں یا الگ الگ لفظوں میں تین طلاقیں دیں تو دوبارہ نکاح کی گنجائش موجود ہے ،بشرطیکہ رخصتی و خلوت صحیحہ دونوں سے قبل ہو کیونکہ اس سے قبل پہلی طلاق سے ہی عورت اُسکے نکاح سے نکل جائے گی اور باقی طلاقیں لغو ہوں گی، اور دوبارہ نکاح کی صورت میں شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
♦ اور اگر ایک ہی دفعہ تینوں طلاقیں اگٹھی دیں کہ تمہیں تین طلاقیں تو اب عورت کو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور اس صورت میں بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔
مصنف ابن ابی شیبۃ میں ہے : عن الحكم، وحماد، عن إبراهيم قال:إذا قال لامرأته قبل أن يدخل بها: أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق، بانت بواحدة، وسقطت اثنتان.یعنی جب مرد نے دخول سے قبل اپنی بیوی کو کہا کہ تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تو وہ ایک ہی سے نکاح سے نکل جائے گی ،اور دو ساقط ہوں گی۔ [أبو بكر بن أبي شيبة ،مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الطلاق ، 4/68]
بدایۃ المبتدی میں ہے : وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة. [المَرْغِيناني، بداية المبتدي، كتاب الطلاق ،صفحة ٧١]
فتاوی ہندیہ میں ہے : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق. [الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق ،الباب الثاني، الفصل الرابع، ٣٧٣/١]
بہارشریعت میں ہے : غیر مدخولہ کو کہا تجھے تین طلاقیں تو تین ہو نگی اوراگر کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق یاکہاتجھے طلاق طلاق طلاق یا کہا تجھے طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک تو ان صورتوں میں ایک بائن واقع ہوگی باقی لغو و بیکار ہیں یعنی چند لفظوں سے واقع کرنے میں صرف پہلے لفظ سے واقع ہوگی اور باقی کے لیے محل نہ رہے گی۔ (بہارشریعت، غیر مدخولہ کی طلاق کا بیان، جلد 2 ، حصہ 8، مکتبۃالمدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
16 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 23 جون 2024ھ