دینی فرائض و احکام کو اپنے اوپر عذاب و بوجھ کہنا

دینی فرائض و احکام کو اپنے اوپر عذاب و بوجھ کہنا

سوال:مفتی صاحب، کسی نے زید سے پوچھا کیا تم نے فطرانہ ادا کر دیا تو زید کے منہ سے نکلا کہ ہاں یہ عذاب ابھی باقی ہے، اس پر کیا شرعی حکم ہے؟

(سائل :ممبر فقہی مسائل گروپ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

حکمِ خداوندی ، دینی فرائض و احکامات کو اللہ کا عذاب کہنا کفر یہ جملہ ہے، لہذا ایسے جملوں سے اجتناب لازمی ہے اور کہنے والے پر ایسے جملے سے پکی سچی توبہ اور تجدیدِ ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔

مجمع الانھر میں ہے : ويكفر بقوله إن هذه الطاعات جعلها الله تعالى عذابا علينا بلا تأويل أو قال لو لم يفرض الله تعالى هذه الطاعات لكان خيرا لنا . یعنی اس قول کے سبب تکفیر کی جائے گی کہ یہ عبادات اللہ تعالی نے ہمارے اوپر عذاب مقرر کیں بغیر تاویل کے،یا کسی نے یوں کہا کہ اگر اللہ پاک ہمارے اوپر یہ عبادات فرض نہ کرتا تو ہمارے لیےبہتر ہوتا۔ [مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،باب المرتد ،الفاظ الکفر انواع، ٦٩٤/١]

البحرالرائق میں ہے : ويكفر بقوله جاء الشهر الثقيل إلا إذا أراد التعب لنفسه وباستهانته للشهور المفضلة وبقوله إن هذه الطاعات جعلها الله تعالى عذابا علينا بلا تأويل أو قال لو لم يفرض الله هذه الطاعات لكان خيرا لنا .

[البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب السیر ،باب أحکام المرتدين ،١٣٢/٥]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

11 ذیقعدۃ الحرام 1445ء 20 مئی 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں