خنثی جانور کی قربانی کا حکم
سوال:مفتی صاحب ، کیا جانوروں میں بھی خنثی قسم کے جانور پائے جاتے ہیں، اور کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جاتی ہے؟
(سائل :ممبر فقہی مسائل گروپ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
بعض جانوروں میں نر و مادہ دونوں طرح کی علامات ہوتی ہیں، ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، کیونکہ ان جانوروں کے گوشت میں یہ عیب پایا جاتا ہے کہ وہ پکانے سے پکتا نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے : لا تجوز التضحية بالشاة الخنثى؛ لأن لحمها لا ينضج. یعنی خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتانہیں، قنیہ میں اسی طرح ہے۔ [مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، کتاب الأضحیۃ، الباب الخامس ، ٢٩٩/٥]
حاشیہ چلپی میں ہے : ولا يضحي بالخنثى؛ لأنه لا يمكن إنضاج لحمها هكذا كان يحكي والدي عن الشيخ ظهير الدين المرغيناني.
[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، كتاب الأضحية ،باب ما يضحى به، ٦/٦]
فتاوی رضویہ میں ہے : خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتاہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتاہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتاہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا، ویسے ذبح سے حلال ہوجائے گا، اگر کوئی کچا گوشت کھائے، کھائے۔(فتاوی رضویہ ،جلد 20 ،صفحہ 255 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
03 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 10 جون 2024ھ