جانورکے کان میں سوراخ ہو تو قربانی کا حکم
سوال:مفتی صاحب ، فارمز میں جانوروں کے کان پر ٹیگ لگاتے ہیں، جس پہ نمبر لکھا ہوتا ہے، بعض اوقات وہ ٹیگ کان میں سوراخ کر کے آر پار ہوتا ہے، کیااس جانور کی قربانی جائز ہے؟
(سائل :حافظ محمد مہروز ذولفقار)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ جانور کی قربانی ہوجائے گی کیونکہ شرعا جس جانور کا کان ایک تہائی یا اس سے کم کٹا ہو، اسکی قربانی ہو جاتی ہے اوریہ بات واضح ہے کہ نشان وغیرہ لگانے کے لیے کان کیا گیا میں ایک آدھ سوراخ ، کان کے کے تیسرے حصے کے برابر نہیں ہوتا بلکہ کم ہوتا ہے ،ہاں اگر ایک سے زائد سوراخ ہوں جو کان کے تہائی سے بڑھ جائیں تو ایسے جانور کی قربانی نہ ہو گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے : إن كان الذاهب كثيرا يمنع جواز التضحية، وإن كان يسيرا لا يمنع، واختلف أصحابنا بين القليل والكثير . . . . . . . وفي الجامع أنه إذا كان ذهب الثلث أو أقل جاز، وإن كان أكثر لا يجوز، والصحيح أن الثلث وما دونه قليل وما زاد عليه كثير، وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان.
[الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية ، الباب الخامس، ٢٩٨/٥]
بہار شریعت میں ہے: کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو ،تو(قربانی)جائز ہے۔
(بہار شریعت، جلد3،حصہ 15،صفحہ 341،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
07 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 14 جون 2024ھ