بس جانور بے عیب ہو،باقی قربانی کرنے والا جیسا بھی ہو چلے گا

بس جانور بے عیب ہو،باقی قربانی کرنے والا جیسا بھی ہو چلے گا

سوال:مفتی صاحب ، یہ جملہ بولنا کیسا “بس قربانی کا جانور بے عیب ہونا چاہیے، باقی قربانی کرنے والا جھوٹا، دھوکے باز، فراڈی، منافق، سود خورجیسا بھی ہو چلے گا” ؟

(سائل :ممبر فقہی مسائل گروپ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

♦ بعض لوگ اس طرح کے جملے شرعی احکام پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے بولتے ہیں، دہریہ لوگ جو خدا اور مذہب کے منکر ہیں مختلف حیلے بہانوں سے اس قسم کے جُملوں کو عام کرتے ہیں تاکہ لوگ قربانی وغیرہ دیگر شرعی احکام سے آزاد ہوں پھر آہستہ آہستہ مذہب سے ہی دور جائیں ، اس اعتبار سے اسطرح کے جُملے بولنا شرعا دُرست نہیں،بعض اوقات ایسے جملے کفر و گمراہیت کا سبب بن جاتے ہیں،لہذا ایسے جملوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

♦ اگر شریعت پر اعتراض اور طعن مقصود نہیں بلکہ اصلاحی انداز میں کسی نے مذکورہ جملہ بولا تو اس میں حرج نہیں کہ شریعت کو جیسے قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا مطلوب ہے یونہی قربانی کرنے والے مسلمان کا بھی گناہوں سے پاک ہونا مطلوب ہے، دین اسلام جہاں اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنے کا حکم ارشاد فرماتا ہے وہی پر مسلمانوں کو گناہوں بھری خواہشات قربان کر کے دین کے تابع بنانے کا حکم بھی دیتا ہے، نیز مسلمان تو درکنار غیر مسلم بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ دينِ اسلام جھوٹ دھوکہ، فراڈ، منافقت اور سود وغیرہ گناہوں کی مذمت کرتا اور اپنے ماننے والوں کو ان گناہوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہے،اس اعتبار سے مذکورہ جملے میں ہمارے لیے سبق ضرور ہے کہ قربانی کے ساتھ ساتھ ہمیں ان گناہوں سے بچ کر اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی بھی دینی چاہیے۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به.یعنی تم میں سے کوئی بھی اُس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اُس کے پیچھے چلائے جو میں لے کر آیا۔

[مشكاة المصابيح،كتاب الإيمان ، باب الإعتصام بالكتاب والسنة، ٥٩/١]

مشہور صوفی بزرگ ، پنجابی شاعر، بابا بلھے شاہ صاحب علیہ الرحمتہ کی طرف منسوب ایک شعر ہے جس میں آپ علیہ الرحمۃ نے ہم مسلمانوں کو اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا :

چُھری پھیری نہ نفساں تے کدے، تے دُنبے کیتی جاندے او::بھلے نوں وی دسو حضرت اے کی کیتی جاندے او؟

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

05 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 12 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں