اللہ عزوجل کی صفات کی قسم اُٹھانے کا حکم
سوال:مفتی صاحب ،قسم کن الفاظ سے ہوتی ہے، میرے بھائی نے ان الفاظ سے قسم کھائی کہ “ایمان اللہ کی قسم یہ چیز میری ہے” کیا ان الفاظ سے قسم مانی جائے گی؟
(سائل :محمد نواز)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
سوال میں پوچھے گئے الفاظ “اِیمان اللہ کی قسم” ( ہمزہ کی زیر کے ساتھ ، یعنی اللہ عزوجل کے ایمان کی قسم ) سے قسم اٹھانا ہمارے ہاں متعارف نہیں، لہذا ان الفاظ سے قسم نہیں ہوتی ، تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ عزوجل کے ناموں کے علاوہ، صفات کے ساتھ قسم اُٹھائی جائے تو فقط اُن صفات سے قسم منعقد ہوتی ہے جنکی قسم عرف میں اٹھائی جاتی ہو جیسے اللہ کی عزت و جلال کی قسم۔
اگر بولنے والے نے یہ الفاظ ہمزہ کی زبر کے ساتھ ” اَیمان اللہ ” بولے تو اب شرعا یہ قسم کہلائے گی کیونکہ اَیمان ،یمین کی جمع ہے جسکا مطلب قسم ہے ،یعنی گویا اب بولنے والا اللہ کی قسمیں اُٹھا کر کہہ رہا ہے کہ یہ چیز میری ہے، لہذا س صورت میں اگر یہ الفاظ بولنے والا جھوٹا ہوا تو اُس پر جھوٹی قسم کا وبال اور گناہ ہو گا،جس سے فقط توبہ لازم ہے،اور سچا ہو تو کچھ بھی لازم نہیں ۔
المبسوط میں ہے : والأصح أن الأيمان مبنية على العرف والعادة فما تعارف الناس الحلف به يكون يمينا، وما لم يتعارف، الحلف به لا يكون يمينا . [السرخسي، المبسوط للسرخسي، کتاب الأیمان،١٣٣/٨]
تبیین الحقائق میں ہے : إذا حلف بصفاته كعزة الله وكبريائه وجلاله فإن كان متعارفا بأن كان يحلف به عادة يكون يمينا وما لا فلا.
[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الأیمان ،١٠٩/٣]
البحر الرائق میں ہے : واشار المصنف الی انہ لو قال یمین اللہ لافعلن کذا فہو یمین،صرح بہ فی المجتبی .
[البحرالرائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الأیمان ،308/4]
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ( و اَیم اللہ معناہ ایمن اللہ ، وہو جمع یمین ہو مذہب اہل الکوفۃ ، فکان التقدیر واَیمن اللہ فیمن،کانہ قال : حلفت باللہ فیکوں یمینا. [بدرالدین العینی ،البنایۃ شرح الہدایۃ، کتاب الایمان،130/6]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
01 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 08 جون 2024ھ