کیاسیہہ(porcupine)یا اسکی ایک پسلی حلال ہے؟
سوال:مفتی صاحب، گاؤں دیہات میں ایک کانٹوں والا جانور ہوتا ہے، جسے سیہہ کہتے ہیں، یہ پوری حرام ہے یا اسکا کوئی حصہ حلال بھی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں اسکی بائیں پسلی حلال ہے، اسکی کیا حقیقت ہے؟
(سائل:محمد عباسی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
سیہہ جسے عربی میں القنفذ کہتے ہیں ،یہ حرام جانور ہے ،اسے کھانا حلال نہیں ، اور بعض علاقوں میں جو اسکی دائیں یا بائیں پسلی کا حلال ہونا مشہور ہے یہ بالکل غلط اور بے بُنیاد بات ہے جسکی کوئی دلیل نہیں ،لہذا اس جانور کو یا اسکی پسلی کو کھانا ناجائز و حرام ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیہہ کو خبیث جانوروں میں شمار فرمایا۔
ابو داؤد شریف میں ہے کہ ایک صحابی رسول فرماتے ہیں : كنت عند ابن عمر فسئل عن أكل القنفذ، فتلا {قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما} الآية، قال: قال شيخ عنده: سمعت أبا هريرة يقول: ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال خبيثة من الخبائث فقال ابن عمر:إن كان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا فهو كما قال ما لم ندر یعنی میں ابن عمر کے پاس تھا کہ اُن سے کسی نے سیہہ کھانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک آیت تلاوت کی جسکا مفہوم یہ تھا کہ میں اسے قرآن میں حرام نہیں پاتا، تو پاس بیٹھے ایک شیخ نے کہا کہ میں نے ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ نبی پاک علیہ السلام کے پاس اسکا ذکر ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ٰہ خبیث جانورں سے ہے، اس پر حضرت ابن عمر نے فرمایا اگر حضور علیہ السلام نے ایسا فرمایا تو پھر ایسا ہی ہے۔
[سنن أبي داود، كتاب الأطعمة ،باب في اكل حشرات الارض، ٣٥٤/٣]
علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : القنفذ عندنا حرام یعنی سیہہ ہمارے نزدیک حرام ہے۔
[بدر الدين العيني ،البناية شرح الهداية،كتاب الذبائح، 11/601]
صاحب بدائع الصنائع ،علامہ مسعود احمد کاسانی علیہ الرحمۃ حرام جانوروں کا شُمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية…وجميع الحشرات وهوام الأرض من الفأر والقراد والقنافذ والضب… ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي. [بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الذبائح والصیود، ٣٦/٥]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
02 شعبان المعظم 1445ء 13 فروری 2023ھ