مرنے کے بعداپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت

مرنے کے بعداپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت

سوال:مفتی صاحب، یہ وصیت کرنا کہ میرے انتقال کے بعد میرے اعضاء مثلاً دل گردے آنکھیں وغیرہ فلاں کو عطیہ کر دی جائیں کیسا اور کیا اس وصیت پر عمل جائز ہے؟

(سائل:زین لیاقت)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

یہ وصیت کرنا جائز نہیں ، اور ورثاء کا اس وصیت پر عمل کرنا بھی جائز نہیں، اسکے عدم جواز کی چند وجہیں ہیں:

♦ کسی بھی چیز کی وصیت کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وصیت کرنے والا اس چیز کا مالک ہو جبکہ شرعی طور پر انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں، انسان کے پاس یہ اعضاء اللہ تبارک و تعالیٰ کی امانت ہیں، لہذا انکی وصیت کرنا جائز نہیں۔

♦ وصیت میں ضروری ہے کہ جس چیز کی وصیت کی جائے وہ مال ہو، جبکہ انسانی اعضاء شرعا مال نہیں، لہذا انکی وصیت درست نہیں۔

♦ انسان جیسے زندگی میں قابلِ احترام ہے ایسے ہی مرنے کے بعد بھی اپنے اعضاء کے ساتھ محترم و مکرم ہے، جبکہ ایسا کرنے میں انسان اور انسانی اعضاء کی تذلیل ہے ، نیز اس میں میت کو ایذا دینا بھی ہے، لہذا شرعاً ایسی وصیت کرنا ہی جائز نہیں، اور نہ ہی اس وصیت پر عمل جائز۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِؕ . ترجمہ : پھر جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ ہوتو وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ [القرآن، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر : 182]

اس آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے : قال مجاهد معناه ان الرجل إذا حضر مريضا وهو يوصى فراه يميل عن الحق فامره بمعروف ونهاه عن منكر…. وقال الآخرون معناه انه إذا أخطأ الميت في وصيته أو جاف متعمدا فوليه او وصيه او والى امور المسلمين يرد الوصية الى العدل والحق ولا ينفذ الوصية الباطلة. [المظهري، محمد ثناء الله، التفسير المظهري، ١٨٧/١]

مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر اور فتاوی ہندیہ میں ہے : وشرطها كون الموصي أهلا للتمليك والموصى له أهلا للتملك والموصى به بعد الموصي مالا قابلا للتمليك. [مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، كتاب الوصايا ،الباب الأول ، ٩٠/٦]

امام شمس الأئمة سرخسی علیہ الرحمتہ ، شرح السير الكبير میں فرماتے ہیں : والآدمي ‌محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قال صلى الله عليه وسلم : كسر عظم الميت ككسر عظم الحي. [السرخسي، شرح السير الكبير للسرخسی، باب دواء الجراحة]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

22 شعبان المعظم 1445ء 04 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں