قسطوں پر خریداری کے بعد وہی چیز مارکیٹ میں سستی بیچ کر پیسے حاصل کرنا،بعد میں قسطیں پوری کرتے رہنا

قسطوں پر خریداری کے بعد وہی چیز مارکیٹ میں سستی بیچ کر پیسے حاصل کرنا،بعد میں قسطیں پوری کرتے رہنا

سوال:مفتی صاحب، زاہد کوئی کام کرنا چاہتا ہے لیکن اسکے پاس فی الحال رقم موجود نہیں، ایسے میں اُس نے قسطوں پر کوئی چیز مثلاً موبائل فریج، مشین وغیرہ خرید کر، اس چیز کو مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ کم ریٹ پر بیچ دیا، اب وہ اپنی یہ رقم کسی اور کام میں لگا کر اپنا کام چلاتا ہے، اور قسط والوں کو بعد میں ہر ماہ قسطیں ادا کرتا رہے گا ، رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کرنا کیسا ہے، کوئی سود وغیرہ تو نہیں؟

(سائل:محمد عرفان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں زید نے جس دوکاندار سے موبائل فون یا دیگر چیزیں ادھار قسطوں پر خریدیں ہیں، اب مکمل قیمت ادا کرنے سے قبل اگر یہ چیزیں اسی دوکاندار کو یا اسکے باپ بیٹے کو بیچتا ہے جس سے خریداری کی تو جائز نہیں ،لیکن اگر اس دوکاندار کے علاوہ کسی اور کو کم قیمت پر بیچتا ہے تو اب جائز ہے۔

در مختار مع ردالمحتار میں ہے:(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول…. (وشراء من لا تجوز شهادته له) كابنه وأبيه (كشرائه بنفسه) فلا يجوز أيضا…وخرج به ما لو باعه المشتري لرجل أو وهبه له أو أوصى له به ثم اشتراه البائع الأول من ذلك الرجل فإنه يجوز. یعنی جو چیز بندے نے خود بیچی یا اس کے وکیل نے بیچی ہو ، تو ثمنِ اول مکمل ادا ہونے سے پہلے ان میں کمی کر کے اُسی خریدار سے خریدنا بیع فاسد ہے اگرچہ حکمی طور پر خریدار ہو ، جیسا کہ خریدار کے وارث سے خریدنا….اور اسکا خریدنا جسکی شہادت اسکے حق میں جائز نہیں، مثلاً اسکا بیٹا، باپ وغیرہ یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے خود خریدا، پس یہ بھی ایسے ہی جائز نہیں… اور وہ صورت خارج ہے کہ اگر مشتری نے وہ چیز کسی اور کو بیچی یا ہبہ یا وصیت کر دی پھر بائع اول نے اس سے خرید لی تو اب جائز ہے۔ [الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)،کتاب البیوع،باب بیع الفاسد، ٧٤/٥]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

19 شعبان المعظم 1445ء 01 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں