فجر کے وقت تحیۃ المسجد کے نوافل ادا کرنا

فجر کے وقت تحیۃ المسجد کے نوافل ادا کرنا

سوال:مفتی صاحب، میں فجر کی سنتیں گھر پر پڑھ کر مسجد میں جماعت کے لیے گیا، کیا میں تحیۃ المسجد ادا کر سکتا ہوں؟

(سائل:جمیل قادری)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں، تحیۃ المسجد کے نوافل نہیں ادا کر سکتے کیونکہ طلوع فجر سے آفتاب بلند ہونے تک فجر کی دو سنتوں کے علاوہ، کسی قسم کے نوافل پڑھنے کی شرعاً اجازت نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے : تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان.منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر. كذا في النهاية والكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر. یعنی نو اوقات میں نوافل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے نہ کہ فرائض،نہایہ و کفایہ میں ایسا ہی ہے،اور ان اوقات میں قضاء نماز پڑھنا،نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت کرنا جائز ہے،قاضی خان میں ایسا ہی ہے،اُن نو میں سے ایک وقت طلوع فجر کے بعد سے نماز فجر تک ہےکہ اس میں سنت فجر کے علاوہ نوافل مکروہ ہیں۔ [الفتاوى الهندية ،کتاب الصلاۃ ،الباب الأول فی مواقيت الصلاۃ، الفصل الثالث،1/52]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

01 شعبان المعظم 1445ء 12 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں