غیر مسلم کے ہاتھ مُردار فروخت کرنا

غیر مسلم کے ہاتھ مُردار فروخت کرنا

سوال:مفتی صاحب، مردہ مرغی یا مرغیاں ذبح کر کے گوشت کسی غیر مسلم کو دینا کیسا؟

(سائل:رضا شیرازی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

مُردہ مرغیاں ویسے ہی کسی غیر مسلم کو دینے کی اجازت نہیں، البتہ دھوکہ دیے بغیر کسی غیر مسلم کے ہاتھ مردہ مرغیاں یا مُردار فروخت کر سکتے ہیں۔

ردالمحتار میں السیر الکبیر کے حوالے سے ہے : لو باعهم درهما بدرهمين أو باعهم ميتة بدراهم أو أخذ مالا منهم بطريق القمار فذلك كله طيب له. یعنی اگر کسی مسلمان نے کافروں کو ایک درہم، دو درہم کے بدلے بیچا یا دراہم کے عوض مردار بیچا یا جوئے کے طور پر اُنکا مال لیا تو یہ سب مسلمان کے لیے حلال ہے۔

[الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً، ١٨٦/٥]

بہار شریعت میں ہے : عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔ [بہارشریعت، سود کا بیان، جلد2، حصہ 11 ، مکتبۃالمدینہ ]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

08 شعبان المعظم 1445ء 19 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں