عورت کومُلک یا صوبےکاحکمران بنا نا

عورت کومُلک یا صوبےکاحکمران بنا نا

سوال:مفتی صاحب، کیا عورت حکمران بن سکتی ہے، حکمرانی چاہے ملک کی ہو یا صوبہ کی یا تحصیل و ضلع کی ہو؟

(سائل:علامہ احمد فیضی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

دینِ اسلام میں عورت کو حکمران بنانا منع ہے کیونکہ عورت اپنی ناقص عقل اور چار دیورای کے سبب حکمرانی کے تقاضے پورے کرنے سے عاجز ہوتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو حکمران بنانے والی قوم کے ناکامی و بربادی کی وعید سنائی ہے اور ایک موقع پر اس فعل سے بیزاری و نفرت کا اظہار کرتے ہوئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب مردوں کے کام عورت کو سپرد ہو جائیں تو زمین پر رہنے سے مرنا بہتر ہے، لہذا اسلام میں عورت کی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں، چاہے پورے ملک کی حکمرانی ہو یا کسی صوبہ و ضلع کی۔

بخاری شریف میں حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ :لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أهل فارس، قد ملكوا عليهم بنت كسرى، قال: لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة. یعنی جب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر پہنچی کہ فارس والوں نے اپنا بادشاہ کسریٰ کی بیٹی کو بنالیا تو فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہوگی جنہوں نے اپنے کام کا حاکم عورت کو بنایا۔

[البخاري، صحيح البخاري،کتاب المغازی ، ٨/٦]

ترمذی شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے : وإذا كان أمراؤكم شراركم وأغنياؤكم بخلاءكم، وأموركم إلى نسائكم فبطن الأرض خير لكم من ظهرها. یعنی جب تمہارے حکام تم میں سے بدترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے کنجوس ہوں اور تمہارے کام تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۔

[الترمذي، محمد بن عيسى، سنن الترمذي ت شاكر، ابواب الفتن، ٥٢٩/٤]

مرقاۃ المفاتيح میں ہے :لا تصلح المرأة أن تكون إماما، ولا قاضيا ; لأنهما محتاجان إلى الخروج للقيام بأمور المسلمين، والمرأة عورة لا تصلح لذلك، ولأن المرأة ناقصة ; والقضاء من كمال الولايات ; فلا يصلح لها إلا الكامل من الرجال.

[الملا على القاري، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،کتاب الإمارۃ والقضاء ، ٢٤٠٦/٦]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

08 شعبان المعظم 1445ء 19 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں