زمین کرائے پر دی،زیادہ کرایہ ملنے پر دوسری جگہ دینا
سوال:مفتی صاحب، ایک زمیندار نے اپنی زمین ایک ڈیلر کو کرائے پر دی، اب ایک اور پارٹی اس زمیندار کو اس سے زیادہ کرایہ دے رہی ہے، کیا وہ زمیندار پہلی پارٹی سے معاہدہ ختم کر کے دوسری پارٹی سے کر سکتا ہے؟
(سائل:ممبر فقہی مسائل گروپ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
جب ایک شخص کے ساتھ عقداجارہ مکمل ہو جائے تو اب بغیر کسی عذر کے اُس عقد کو ختم کرنے کا اختیار کسی کو نہیں،نیز دوسری جگہ سے زیادہ پیسے ملنا اجارہ ختم کرنے کا کوئی عذر نہیں جسکی بناء پر پہلا عقد ختم کیا جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں زمیندار کا از خود پہلا معاہدہ ختم کر کے دوسری پارٹی کو دینا جائز نہیں۔
علامہ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں : الإجارة عقد لازم لا تنفسخ بغير عذر. یعنی اجارہ ایسا لازم عقد ہے جو بغیر عذر فسخ نہیں ہوتا۔
[ابن نجيم، الأشباه والنظائر لابن نجيم،كتاب الإجارات ،صفحة ٢٢٩]
دوسری جگہ سے زائد کرایہ ملنا کوئی عذر نہیں، چنانچہ المحیط البرہانی میں ہے : والمؤاجر إذا وجد زيادة على الأجرة لا يكون ذلك عذرا له في فسخ الإجارة. [المحيط البرهاني في الفقه النعماني ،کتاب الإجارات الفصل الثامن عشر فی فسخ الإجارۃ، 7/501]
فتاوی ہندیہ میں ہے: وليس للمؤاجر أن يفسخ الإجارة إذا وجد زيادة على الأجرة التي آجر بها، وإن كان أضعافا. كذا في غاية البيان. [الفتاوى الهندية،کتاب الإجارۃ ، الباب التاسع عشر فی فسخ الإجارۃ، ٤٥٩/٤]
بہار شریعت میں ہے : اجارہ کرلینے کے بعد دوسراشخص بہت زیادہ اُجرت دینے کو کہتا ہے یا مستاجر سے دوسر اشخص کم اُجرت پر چیز دینے کو کہتا ہے اجارہ فسخ کرنے کے لیے یہ عذر نہیں اگرچہ وہ بہت زیادہ دیتا ہو یا یہ بہت کم اُجرت مانگتا ہو۔[بہار شریعت،اجارہ کا بیان ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
02 شعبان المعظم 1445ء 13 فروری 2023ھ