بوڑھی عورت کا دودھ ہی نہ ہو ،کیا اُس سے رضاعت ثابت ہو گی؟
سوال:مفتی صاحب، میری دادی نے، میرے چھوٹے بھائی کو بچپن میں ایک دفعہ چُپ کرانے کے لیے اپنی چھاتی اسکے منہ میں ڈالی، والدہ کہیں دور تھیں اور بھائی بہت رو رہا تھا اس لیے ایسا کیا، میری دادی بہت بوڑھی تھیں اور انکی چھاتی میں دودھ نہیں تھا، کیا رضاعت ثابت ہو گئی، کیا اب میرا بھائی اپنی پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟
(سائل:فاطمہ بُشری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
اگر واقعی اس وقت دادی کی چھاتی میں دودھ نہ تھا تو اس سے رضاعت ثابت نہ ہوئی، لہذااس پوتے کا اپنی پھوپی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔
علامہ ابن نُجیم مصری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : لو كان في الحرمة شك لم يعتبرولذا قالوا: لو أدخلت المرأة حلمة ثديها في فم رضيعة ووقع الشك في وصول اللبن إلى جوفها لم تحرم؛ لأن في المانع شكاكما في الولوالجية.وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك فيما بينهم، ثم تقول لم يكن في ثدي لبن حين ألقمتها ثديي ولا يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية [ابن نجيم، الأشباه والنظائر لابن نجيم،الفن الأول، القاعدة الثانية، صفحة ٥٨]
بہار شریعت میں ہے : عورت نے بچہ کے مونھ میں چھاتی دی اور یہ بات لوگوں کو معلوم ہے مگر اب کہتی ہے کہ اس وقت میرے دودھ نہ تھا اور کسی اور ذریعہ سے بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دودھ تھا یا نہیں تو اس کا کہنا مان لیا جائے گا۔
[ بہار شریعت ، دودھ کے رشتے کا بیان، جلد2 ، حصہ 7 ، مکتبۃالمدینہ ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
24 رجب المرجب 1445ء 05 فروری 2023ھ