ایک بے بُنیاد بات پر عورت کو طلاق دینا اورتہمت لگانا

ایک بے بُنیاد بات پر عورت کو طلاق دینا اورتہمت لگانا

سوال:مفتی صاحب، شادی کی پہلی رات معلوم ہو کہ عورت کا پردہ بکارت پہلے سے کھلا ہوا ہے، تو کیا حکم ہے، کیا اسے طلاق دے سکتے ہیں؟

(سائل:کاشف اکرام)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

محض سوال میں بیان کردہ وجہ کو بنیاد بنا کر عورت کو بدکار سمجھنا، اس پر بدکاری کی تہمت لگانا، معاشرے میں ذلیل و رسوا کرنا اور طلاق دینا ہر گز جائز نہیں بلکہ عورت پر یہ تہمت لگانا ناجائز و حرام اور اللہ عزوجل کی لعنت و عذاب آخرت کا سبب ہے ، کیونکہ لازمی نہیں پردہ بکارت بدکاری کے سبب زائل ہوا ہو، کسی بیماری، چھلانگ یا حادثہ وغیرہ کے سبب بھی پردہ بکارت زائل ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ. ترجمہ: بیشک وہ جو انجان، پاکدامن، ایمان والی عورتوں پربہتان لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

[القرآن، سورۃ النور، آیت نمبر 23]

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اجتنبوا السبع الموبقات قالوا: يا رسول الله، وما هن؟ قال: الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات. یعنی روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہلاکت کی چیزوں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا حضور وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، اور ناحق اس جان کو ہلاک کرنا جو اللہ نے حرام کی ، اور سود خوری، یتیم کا مال کھانا ، جہاد کے دن پیٹھ دکھا دینا ، پاکدامن مؤمنہ بے خبر بیبیوں کو بہتان لگانا۔ [البخاري، صحيح البخاري، كتاب الحدود، باب رمي المحصنات، ١٧٥/٨]

الإختیار لتعلیل المختار میں ہے : فإن زالت بكارتها بوثبة أو جراحة أو تعنيس أو حيض فهي بكر یعنی اگر عورت کا پردہ بکارت کودنے ، کسی زخم کے لگنے ، دیر تک شادی نہ ہونے یا حیض کے سبب زائل ہو جائے تو وہ باکرہ ہی کے حکم میں ہے۔

[الاختيار لتعليل المختار،کتاب النکاح ،عبارۃ النساء معتبرۃ فی النکاح ، ٩٣/٣]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

01 شعبان المعظم 1445ء 12 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں