وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کرنا
سوال:مفتی صاحب، وتر کی جماعت کراتے ہوئے امام صاحب نے تیسری رکعت میں قراءت آہستہ کی، کسی نے لقمہ بھی نہ دیا تو اب نماز کا کیاحکم ہے، اس پر سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟
(سائل:جعفر حسین سندھی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ رمضان المبارک میں وتر کی تینوں رکعتوں میں امام پر جہری قراءت کرنا واجب ہے، لہذا اس صورت میں اگر امام صاحب نے بھولے سے وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کی تو ترک واجب کے سبب سجدہ سہو لازم ہو گا۔
♦ درست مسئلہ معلوم نہ ہونے کے سبب اگر امام صاحب نے یہ گمان کرتے ہوئے آہستہ قراءت کی کہ جیسے مغرب کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کی جاتی ہے ایسے ہی وتر کی تیسری رکعت میں بھی آہستہ کی جائے گی تو اب اس صورت میں سب پر وتر دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ قصداً واجب کو ترک کرنے کی صورت ہے، اور قصداً ترک واجب پر نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔
در مختار مع ردالمحتار میں ہے: (ويجهر الإمام) وجوبا… (في الفجر وأولى العشاءين أداء وقضاء وجمعة وعيدين وتراويح ووتر بعدها.. ويسر في غيرها)وهو الثالثة من المغرب والأخريان من العشاء، وكذا جميع ركعات الظهر والعصر.
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،کتاب الصلاۃ ،فصل فی القراءۃ ، ٥٣٣/١]
فتاوی ہندیہ میں ہے : لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو.
[الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة ،الباب الثاني عشر في سجود السهو]
بحرالرائق و عالمگیری میں ہے: لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة إذا ترك واجبا عمدا جبرا لنقصان.
[البحر الرائق شرح كنز الدقائق ، كتاب الصلاة ،باب سجود السہو ، ٩٨/٢]
بہار شریعت میں ہے:فجر و مغرب و عشا کی دو پہلی میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور وتر رمضان کی سب میں امام پر جہر واجب ہے اور مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری چوتھی یا ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (بہار شریعت ، ج1ح 3 ، صفحہ 544،مکتبۃ المدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
09 رمضان المبارک 1445ء 20 مارچ 2024ھ