والدین کی وصیت پر رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنا

والدین کی وصیت پر رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنا

سوال:مفتی صاحب، ایک شخص کی والدہ نے اسے وصیت کی تمہارے بھائی نے دوسرے خاندان میں رشتہ کیا ہے حالانکہ اپنوں میں رشتہ موجود ہے، اب میرے مرنے کے بعد تم نے اس سے تعلق نہیں رکھنا اور اسکی خوشی میں شریک نہ ہونا، اس کی امی انتقال کر چکی ہے، اب کیا وہ شخص اپنے بھائی کی بیٹی کی شادی میں شریک ہو سکتا ہے یا ماں کی وصیت پر عمل کرنا لازم ہے؟

(سائل:حسین جان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

یہ وصیت باطل ہے، شرعاً اسکی کوئی حیثیت نہیں، آپ اس وصیت کی وجہ سے اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کریں بلکہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے انکی خوشی جیسے بیٹے ،بیٹی کی شادی میں شریک ہوں، قرآن و حدیث میں ایسی وصیتوں پر عمل کرنے سے روکا گیا ہے نیز بغیر کسی شرعی وجہ کے بہن ،بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں سے قطع تعلقی پر بھی سخت وعیدات موجود ہیں۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِؕ . ترجمہ : پھر جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ ہوتو وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ [القرآن، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر : 182]

اس آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے : قال مجاهد معناه ان الرجل إذا حضر مريضا وهو يوصى فراه يميل عن الحق فامره بمعروف ونهاه عن منكر…. وقال الآخرون معناه انه إذا أخطأ الميت في وصيته أو جاف متعمدا فوليه او وصيه او والى امور المسلمين يرد الوصية الى العدل والحق ولا ينفذ الوصية الباطلة. [المظهري، محمد ثناء الله، التفسير المظهري، ١٨٧/١]

صحیح بخاری و مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا يدخل الجنة قاطع رحم. یعنی رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [صحيح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم، ١٩٨١/٤]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

07 رمضان المبارک 1445ء 18 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں