نمازی کے سامنے موبائل پر تصویر نظر آئے تو نماز کا حکم
سوال:مفتی صاحب، موبائل کی سکرین پر تصویر والاwallpaper لگا ہوا ہو تو نماز ادا کرتے وقت موبائل نمازی کے آگے ہو اور دورانِ نماز موبائل آن ہو جائے، نمازی کے سامنے تصویر ہوگئی تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہوگا ؟
(سائل:زاہد علی اعوان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں نماز ہو جائے گی، کیونکہ علمائےکرام کی تحقیق کے مطابق، موبائل فون پر نظر آنے والی تصویر ، آئینے میں نظر آنے والے عکس کے حکم میں ہے اور آئینے کے سامنے نماز ہو جاتی ہے، نیز اگر اس کو تصویر کے حکم میں مان بھی لیا جائے تب بھی نماز ہو جائے گی کیونکہ مطلقا تصویر سامنے ہونا نماز کے مکروہ تحریمی ہونے کا سبب نہیں بلکہ ایسی تصویر جو مکمل قد کی ہو ،زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھنے سے چہرے کے اعضاء ناک کان وغیرہ بالکل واضح نظر آئیں اور وہ تصویر نمازی کے سامنے بطور تعظیم آویزاں ہو یارکھی ہو تب نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، اوریہ بات واضح ہے کہ عموما موبائل والی تصویر ایسی نہیں ہوتی۔
جد الممتار حاشیہ رد المحتار میں ہے : سئلت عمن صلی و أمامہ مرأۃ، فأجبت بالجواز. یعنی مجھ سے اس بندے کی نماز کے متعلق سوال ہوا جس کے سامنے آئینہ ہو تو میں نے جواب دیا جائز ہے۔ [جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الصلاۃ ]
تنویر الابصار مع الدرمیں ہے : ولا یکرہ..(أوكانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض (أو مقطوعة الرأس أو الوجه)أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه. یعنی جب تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ اگر زمین پر رکھی ہو اور کھڑے ہو کر دیکھنے والے کے لیے اعضاء کی تفصیل واضح نہ ہو یا اسکا سر یا چہرہ کٹاہوا ہو یا اُسکا کوئی ایسا عضو مٹا ہوا ہو جسکے بغیر وہ زندہ نہ رہ سکے،تو ان صورتوں میں نماز مکروہ نہیں۔
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب الصلاۃ،باب مایکرہ الصلاۃ، ٦٤٩/١]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
22 شعبان المعظم 1445ء 04 مارچ 2024ھ