مکھیوں کا ناپاکی سے اُڑ کر کپڑوں پر بیٹھنا،پاکی کا حکم

مکھیوں کا ناپاکی سے اُڑ کر کپڑوں پر بیٹھنا،پاکی کا حکم

سوال:مفتی صاحب، پیشاب کرتے وقت طہارت خانے میں بہت سارے مچھر مکھیاں ہوتے ہیں، اگر وہ ہمارے جسم یا کپڑے پر بیٹھتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

(سائل:عون محمد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

ان مکھیوں اور مچھروں کے جسم و کپڑوں پر بیٹھنے سے جسم و کپڑے ناپاک نہیں ہوتے کیونکہ ان مکھیوں وغیرہ سے بچنا مشکل ہے اور پھر ان مکھیوں، مچھروں کی ٹانگوں و پروں کے ساتھ لگی نجاست بھی قلیل ہوتی ہے اور اتنی تھوڑی نجاست شرعاً معاف ہے، البتہ اگر ان کی وجہ سے نجاست زیادہ لگ جائے تو اب کپڑے و جسم کو دھونا پڑے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے : ذباب المستراح إذا جلس على ثوب لا يفسده إلا أن يغلب ويكثر كذا في فتاوى قاضي خان. یعنی بیت الخلاء والی مکھی اگر کسی کے کپڑوں پر بیٹھ گئی تو کپڑوں کو ناپاک نہ کرے گی مگر یہ کہ (نجاست) زیادہ ہو، جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔ [الفتاوى الهندية، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني ، ٤٧/١]

المحیط البرہانی میں ہے : ذباب المستراح إذا جلس على ثوب رجل فقد قيل لا بأس به؛ لأن التحرز عنه غير ممكن…..ولأن التحرز عن قليل النجاسة غير ممكن، فإن الذباب يغفو على النجاسة ثم يغفو على ثياب المصلي، لا بد وأن يكون (في) أجنحتهن وأرجلهن نجاسة، فجعل القليل عفوا لمكان البلوى.

[المحيط البرهاني في الفقه النعماني،کتاب الطہارات، الفصل السابع في النجاسات وأحکامہا، 1/192]

بہار شریعت میں ہے : پاخانہ پر سے مکھیاں اُڑ کر کپڑے پر بیٹھیں کپڑا نجس نہ ہوگا۔

[بہارشریعت، نجاستوں کے متعلق احکام ، جلد 1 ، حصہ 2 ، مکتبۃالمدینہ کراچی ]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

16 شعبان المعظم 1445ء 27 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں