مکمل تراویح پڑھے بغیر وتر کی امامت کرا نا
سوال:مفتی صاحب، امام کی تراویح کی کچھ رکعتیں رہ جائیں تو کیا وہ وتر کی امامت کرا سکتا ہے؟
(سائل:محمد قادری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
اس صورت میں امام کے لیے جائز ہے کہ وہ پہلے وتر کی جماعت کرائے پھر بعد میں اپنی بقیہ تراویح کی رکعات مکمل کر لے، کیونکہ صحیح قول کے مطابق تراويح کی نماز وتر سے پہلے اور بعد میں دونوں طرح پڑھنا درست ہے، نماز تراویح کا وقت عشاء کے فرضوں کے بعد سے طلوع فجر تک ہے۔
ہدایہ شریف میں ہے : والأصح أن وقتها بعد العشاء إلى آخر الليل قبل الوتر وبعده لأنها نوافل سنت بعد العشاء.
[المَرْغِيناني، الهداية في شرح بداية المبتدي،کتاب الصلاۃ ، باب النوافل،٧٠/١]
تحفۃ الملوک میں ہے : وقت التراويح بعد أداء العشاء إلى طلوع الفجر قبل الوتر وبعده.
[الرازي، زين الدين، تحفة الملوك،کتاب الصلاۃ ،فصل فی التراويح، صفحة ٨١]
بہار شریعت میں ہے : اس کا وقت فرض عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہوگیا تو امام کے ساتھ و تر پڑھ لے پھر باقی ادا کرلے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اوراگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے۔
[بہارشریعت، تراویح کا بیان، جلد 1 ،حصہ 4، مکتبۃالمدینہ ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
29 شعبان المعظم 1445ء 11 مارچ 2024ھ