معروف شعر“سیدہ زہرہ کی جاگیرفقط باغ نہیں’’ کا حکم

معروف شعر“سیدہ زہرہ کی جاگیرفقط باغ نہیں’’ کا حکم

سوال:مفتی صاحب، یہ شعر ” سیدہ زہرا کی جاگیر فقط باغ نہیں : انکے قبضے میں ہیں جنت کے کنارے سارے ” پڑھنا کیسا؟

(سائل:اویس رضا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

♦ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تبارک وتعالی اپنے پیاروں کو جنت کا مالک و وارث بناتا ہے، اور یقیناً سیدۃ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا بھی انہیں محبوب ہستیوں میں سے ہیں، نیزسیدہ خاتون جنت کی عقیدت و محبت ہم سب مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے،لیکن اس عقیدت کے سبب، عقیدہ اہلسنت سے انحراف یا کسی صحابی رسول پر تہمت اور طعن و تشنیع قطعاً جائز نہیں۔

♦ مذکورہ شعر کا شرعی حکم یہ ہے کہ کسی بھی سنی مسلمان کے لیے یہ شعر پڑھنا ہرگز جائز نہیں کیونکہ اسکے پہلے مصرعے میں باغ فدک کا سیدہ خاتون جنت رضی اللہ عنہا کی ملکیت میں ہونا ثابت کیا گیا پھر بالواسطہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سیدہ رضی اللہ عنھا کی ملکیت انکے حوالے نہ کرنے کی تہمت لگائی گئی، حالانکہ یہ بات کثیر صحیح احادیث اور عقیدہ اہلسنت کے خلاف ہے کیونکہ حدیث سے یہ ثابت ہے کہ باغ فدک مالِ فئ کے حکم میں تھا، جسے نہ تو حضور علیہ السلام نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں سیدہ خاتون جنت کو عطا فرمایا اور پھر آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بھی کسی کو اختیار نہ تھا کہ وہ اس باغ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مصارف سے ہٹ کر، سیدہ خاتون جنت کو دے دے، نیز آجکل اس طرح کے اشعار پڑھ کر روافضِ زمانہ، خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات پر لعن طعن و تبرا کرتے ہیں، لہذا ایسے اشعار پڑھنے سننے سے اجتناب لازمی ہے۔

نیک بندوں کو جنت کا وارث و مالک بنانے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا. ترجمہ : یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہو۔ [القرآن، سورۃ المریم، آیت نمبر : 63]

باغ فدک کے متعلق سنن ابو داؤد شریف میں ہے : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم: كانت له فدك، فكان ينفق منها ويعود منها على صغير بني هاشم، ويزوج منها أيمهم، وإن فاطمة سألته أن يجعلها لها فأبى ، فكانت كذلك في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى مضى لسبيله، فلما أن ولي أبو بكر رضي الله عنه، عمل فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم، في حياته حتى مضى لسبيله، فلما أن ولي عمر عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله…الخ. [السجستاني، أبو داود،سنن أبي داود كتاب الخراج والإمارة والفئ، 3/143]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

11 رمضان المبارک 1445ء 22 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں