مسجد کی تعمیرات ، دیگر لوازمات کے لیے اُدھار لینا
سوال:مفتی صاحب، مسجد کی تعمیر میں مسجد کے پیسے ختم ہو جانے پر کیا ادھار لے کر مسجد کا کام جاری رکھ سکتے ہیں؟
(سائل:شاہد چوہدری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
جب مسجد کا فنڈ ختم ہو جائے اور قرض کے علاوہ کوئی حل نہ ہو تو مسجد کے تعمیراتی کام یا دیگر مصالح مسجد مثلا امام و مؤذن کی تنخواہ ، بجلی کے بل کے لیے متولی کی اجازت کے ساتھ کسی سے قرض لینا جائز ہے۔
علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: الاستدانة على الوقف لا تجوز إلا إذا احتيج إليها لمصلحة الوقف كتعمير وشراء بذر فتجوز بشرطين:الأول إذن القاضيالثاني: أن لا يتيسر إجارة العين والصرف من أجرتها، كما حرره ابن وهبان.
[ابن نجيم، الأشباه والنظائر لابن نجيم،الفن الثانی ، کتاب الوقف، صفحة ١٦٢]
رد المحتار شرح در مُختار میں بحر الرائق کے حوالے سے ہے:المختار أنه إذا لم يكن من الاستدانة بد تجوز بأمر القاضي إن لم يكن بعيدا عنه لأن ولايته أعم في مصالح المسلمين وقيل تجوز مطلقا للعمارة والمعتمد في المذهب الأول. أما ماله منه بد كالصرف على المستحقين فلا كما في القنية إلا الإمام والخطيب، والمؤذن فيما يظهر لقوله في جامع الفصولين لضرورة مصالح المسجد اهـ وإلا للحصر والزيت بناء على القول بأنهما من المصالح وهو الراجح. [ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،کتاب الوقف، ٤٣٩/٤]
فتاوی رضویہ میں ہے : متولی کو وقف پر قرض لینے کی دو شرط سے اجازت ہے ایک یہ کہ امر ضروری ومصالح لابدی وقف کے لئے باذن قاضی شرع قرض لے اگر وہاں قاضی نہ ہو خود لے سکتا ہے،د وسرا یہ کہ وہ حاجت سوائے قرض اور کسی سہل طریقہ سے پوری نہ ہوتی ہو مثلاً وقف کا کوئی ٹکڑا اجارہ پر دے کر کام نکال لینا۔[فتاوی رضویہ ،جلد 16، صفحہ 571،رضافاؤنڈیشن ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
13 شعبان المعظم 1445ء 24 فروری 2023ھ