لعان کے بعد عدت کب ہوگی

لعان کے بعد عدت کب ہوگی

سوال:کیا لعان کی صورت میں بھی بیوی خاوند پرحرام ہوجاتی ہے اورکیااس صورت میں بھی عدت ہوگی؟۔

User ID: Raza Sherazi

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

لعان کامعنی ہے مرد اپنی پاکدامن بیوی پربغیرگواہوں کےزناکی تہمت لگائےیاعورت کےبچےکےنسب کاانکارکرےحالانکہ عورت اس الزام کاانکارکرتی ہو ایسی صورت میں مخصوص شرائط کےپائے جانے کے وقت سورہ نورمیں بتائے گئے طریقے کیمطابق پانچ پانچ گواہیاں دینا۔ جب لعان ہوجائے توشوہروبیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں لیکن نکاح باقی رہتاہےلہذاقاضی کی تفریق یامرد کے طلاق دینے کے بعد عدت شروع ہوگی۔

بدائع صنائع میں ہے:قال أصحابنا الثلاثة: هو وجوب التفريق ما داما على حال اللعان لا وقوع الفرقة بنفس اللعان من غير تفريق الحاكم حتى يجوز طلاق الزوج وظهاره وإيلاؤه ويجري التوارث بينهما قبل التفريق ترجمہ:ہمارے احناف کےتینوں امام(امام اعظم وابویوسف ومحمد علیہ الرحمہ)فرماتے ہیں لعان جب تک ثابت رہے زوجین میں جدائی کو واجب کرے گالیکن صرف لعان سے بغیر اسکے کہ قاضی جدائی کرتا زوجین میں علیحدگی نہیں ہوگی حتی کہ مردطلاق دے سکتاہے اورظہاروایلاءکرسکتاہےاورجدائی سے پہلے ایک دوسرے کے وارث بھی بنیں گے۔

(بدائع صنائع، کتاب اللعان،ج3،ص244،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

20جمادی الاولیٰ 1445ھ/06نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں