غسل فرض ہونے کی حالت میں قرآن پاک سننا

غسل فرض ہونے کی حالت میں قرآن پاک سننا

سوال:مفتی صاحب، حالت جنابت میں قرآن مجید سن سکتے ہیں ؟

(سائل:عدیل احمد، جاوید اختر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

جس پر غسل فرض ہو اُسے قرآن پڑھنا منع ہے، سننا منع نہیں، لہذا حالتِ جنابت میں قرآن پاک کی تلاوت سن سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ ہو سکے تو قرآن پاک سننے میں بھی پاکی کا اہتمام کیا جائے۔

ترمذی شریف میں ہے : عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقْرَأِ الحَائِضُ، وَلَا الجُنُبُ شَيْئًا مِنَ القُرْآنِ. یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔

[ سنن الترمذى ، ابواب الطہارۃ ،باب ما جاء فی الجنب والحائض ، حدیث نمبر 131 ،1/236 ]

احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی اس حالت میں حضور علیہ السلام آپ کی گود میں سر مبارک رکھ کر تلاوت کرتے تھے، ظاہر یہی ہے کہ حضرت عائشہ حضور علیہ السلام کی تلاوت کو سنتی تھیں تب ہی روایت کیا، چنانچہ صحیح بُخاری شریف میں ہے : عن عائشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ القرآن ورأسه في حجري وأنا حائض. یعنی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھتے تھے حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔

[صحيح البخاري،كتاب التوحيد ، الماهر بالقرآن مع الكرام البررة، ١٥٩/٩]

فتاوی اہلسنت (دعوت اسلامی) میں ہے : حائضہ عورت قرآن مجید کی تلاوت سن سکتی ہے، ممانعت صرف قرآن مجید پڑھنے یا اس کو بلاحائل چھونے کی ہے، سننے کی کہیں ممانعت نہیں ہے۔ [ماہنامہ فیضان مدینہ،سلسلہ دارالافتاء اہلسنت،اگست 2018]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

18 شعبان المعظم 1445ء 29 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں