عورت کو اعتکاف کے دوران مخصوص ایام

عورت کو اعتکاف کے دوران مخصوص ایام

سوال:مفتی صاحب، اگر عورت کو دوران اعتکاف حیض آ گیا تو کیا اعتکاف فاسد ہو جاے گا؟

(سائل:سید جمیل حسین شاہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

مسنون اعتکاف کے دوران اگر عورت کو حیض آجائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا بعد میں کسی دن، اِس ایک دن اور رات کی قضا کرنی ہو گی ،مثلا پیر والے دن مغرب کے وقت اعتکاف میں بیٹھ جائے اور اگلے دن روزہ رکھے اور افطار کے بعد باہر آجائے،نیز اگر حیض انہی اعتکاف کے دس دنوں کے دوران ختم ہو گیا تو اب قضا کی نیت سے اسی رمضان ایک دن اور ایک رات اعتکاف کر سکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :ولو حاضت المرأة في حال الاعتكاف فسد اعتكافها. یعنی اگر عورت کو حالت اعتکاف میں حیض آیا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔[ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الاعتکاف،فصل رکن الاعتکاف، 116/2]

طحطاوی علی الدر میں اعتکاف کی قضاء کے متعلق ہے : وسواء فسد بصنعه من غير عذر كالخروج والجماع والأكل والشرب في النهار ، أو فسد بصنعه لعذر كما إذا مرض فاحتاج إلى الخروج فخرج أو بغير صنعه رأسا كالحيض والجنون والإغماء الطويل.یعنی (معتکف اعتکاف کی قضا کرے گا ) برابر ہے اعتکاف بغیر عذر کے اس کے عمل سے فاسد ہوا ہو جیسے مسجد سے باہر نکلنا، جماع کرنا، دن میں کھانا پینا، یا اعتکاف اس کے عمل سے بسبب کسی عذر کے فاسد ہوا جیسے بیمار ہوا اور مسجد سے نکلنے کی محتاجی ہے، پس وہ نکلا، یا اعتکاف اصلا اس کے عمل سے فاسد نہ ہوا جیسے حیض آ جانا یا جنون آنا یا طویل بے ہوشی طاری ہونا۔ [حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، کتاب الصوم ،باب الاعتكاف 475/1]

بہار شریعت میں ہے :اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا، اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں۔ (بہارشریعت ،ج1 ،حصہ پنجم، ص1034، مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

11 رمضان المبارک 1445ء 22 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں