عورتوں کی گھر میں جماعت
سوال:عورت کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ۔ کیا گھر میں اکیلی پڑھے یا گھر میں ہی جماعت کرا سکتے ہیں ؟
User ID: Allama Ahmad Faizi
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورتوں کو جماعت کے لئے مسجد کی حاضری مکروہ ہے اسی طرح عورت کا امام ہونامکروہ ہے لہذاگھر میں تنہانماز پڑھیں۔ہاں گھر میں محرم مردیاشوہرکے پیچھے عورت نماز پڑھے تویہ جائزہے لیکن مرد کے لئے مسجد کی بلاوجہ شرعی نماز چھوڑناجائزنہیں اگرایساکرے گاتوامامت کااہل نہیں رہے گا۔ درمختار میں ہے:و(و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح ۔۔۔ ((ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد۔۔۔ (كما تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره۔ترجمہ:عورتوں کوجماعت کی حاضری اگرچہ جمعہ و عید کی ہو یہ مکروہ ہےجیسے مرد کاایسے گھر میں عورتوں کی امامت کرنامکروہ ہےجہاں کوئی اورمرد نہ ہویااسکی محارم جیسے بہن یابیوی یالونڈی میں سے کوئی موجودنہ ہوں۔ہاں جب ان عورتوں کے ساتھ ان افراد میں سے کوئی ہویامسجد میں امامت ہوتومرد کاامامت کرنامکروہ نہیں۔(شامی،کتاب الصؒوۃ،ص565-566،دارالفکر)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
18جمادی الاولیٰ 1445ھ/04نومبر 2023 ء