عورتوں کا جنازے کی نماز میں شرکت کرنا

عورتوں کا جنازے کی نماز میں شرکت کرنا

سوال:مفتی صاحب، عورت کا نماز جنازہ میں شرکت کرنا کیسا، تفصیل کے ساتھ جواب دیں؟

(سائل:ملک محمود غزنوی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جانا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا نسوة جلوس، فقال: ما يجلسكن قلن: ننتظر الجنازة، قال: هل تغسلن قلن: لا، قال: هل تحملن، قلن: لا، قال: هل تدلين فيمن يدلي ، قلن: لا، قال: فارجعن مأزورات غير مأجورات . یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا تم کیوں بیٹھی ہو، انہوں نے عرض کی ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم غسل دو گی، انہوں نے عرض کی نہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم جنازہ اٹھاؤ گی، انہوں نے عرض کی نہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم میت قبر میں اتارو گی، انہوں نے عرض کی نہیں، پس آپ علیہ السلام نے فرمایا : گناہ سے بھری ہوئی ثواب سے خالی ہو کر لوٹ جاؤ۔

[سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز ،باب ما جاء فی اتباع النساء الجنائز حدیث نمبر 1578 ، 1/502]

در مختار مع رد المحتار میں ہے : (ويكره خروجهن تحريما) لقوله عليه الصلاة والسلام ارجعن مأزورات غير مأجورات. یعنی عورتوں کا جنازے کے لیے نکلنا مکروہ تحریمی ہے نبی پاک علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ گناہ سے بھری ہوئی اور ثواب سے خالی ہو کر لوٹ جاؤ۔[الدر المختار وحاشية ابن عابدين، کتاب الصلاۃ ،باب صلاۃ الجنازہ ، ٢٣٢/٢]

بہار شریعت میں ہے : عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ناجائز و ممنوع ہے۔

(بہارشریعت، کتاب الجنائز ،جلد1 ،حصہ 4 ، صفحہ 823 ، مکتبۃالمدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

24 شعبان المعظم 1445ء 06 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں