زکوۃ و فطرہ کے علاوہ کفارہ و فدیہ کی رقم سادات کو دینا

زکوۃ و فطرہ کے علاوہ کفارہ و فدیہ کی رقم سادات کو دینا

سوال:مفتی صاحب، سادات کو زکوۃ فطرہ دینا ہی منع ہے یا کفارہ فدیہ وغیرہ بھی ،کیا سید کو روزے کا کفارہ دے سکتے ہیں؟

(سائل:عبداللہ عمر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

کفارہ اور فدیہ وغیرہ کا مصرف بھی وہی ہے جو زکوۃ و فطرہ کا ہے ،لہذا زکوۃ و فطرہ کی طرح کفارہ و فدیہ وغیرہ تمام صدقات واجبہ بھی سادات اور دیگر ہاشمی خاندان کو نہیں دے سکتے۔

درمختار مع رد المحتار میں ہے : (مصرف الزكاة والعشر) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني. یعنی زکوۃ عشر کا مصرف اور صدقہ فطر، کفارہ و نذر وغیرہ صدقات واجبہ کا مصرف بھی وہی زکوۃ و عشر والا ہے۔[ابن عابدين ،الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ، ،2/339]

فتاوی ہندیہ میں ہے : ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية…. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي. یعنی بنو ہاشم کو (زکوۃ و دیگر صدقات واجبہ) نہیں دیے جا سکتے، اور بنو ہاشم سے مراد آلِ علی، آلِ عباس آلِ جعفر، آلِ عقیل، اور آلِ حارث بن عبدالمطلب ہیں، ایسا ہی ہدایہ میں ہے…یہ حکم تمام واجبہ صدقات جیسے زکوۃ منت عشر کفارہ کا ہے ،البتہ نفلی صدقات اُن کو دینا جائز ہے۔ [مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية،کتاب الزکاۃ ،الباب السابع فی المصارف، ١٨٩/١]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

29 شعبان المعظم 1445ء 11 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں