روزہ دار کا حالت نیند میں کچھ کھانا پینا
سوال:مفتی صاحب، ایک مرض پیراسومنیا (parasomnia) جس میں مریض حالت نیند میں چلتا پھرتا اور کھاتا پیتا ہے، جبکہ جاگنے پر اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ایسی حالت میں اگر مریض کچھ کھائے یا پیے (حالت نیند میں) تو اس کا روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
(سائل:ممبر فقہی مسائل گروپ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور ایسے شخص پر اس روزے کی فقط قضاء لازم ہو گی کفارہ نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے : النائم إذا شرب فسد صومه، وليس هو كالناسي؛ لأن النائم أو ذاهب العقل إذا ذبح لم تؤكل ذبيحته وتؤكل ذبيحة من نسي، كذا في فتاوى قاضي خان. یعنی جب روزہ دار نے حالت نیند میں پانی پیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور وہ بھولنے والے کی مثل نہیں۔ [الفتاوى الهندية،كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لايفسد، ٢٠٢/١]
در مختار میں ہے : (وإن أفطر خطأ) كأن تمضمض فسبقه الماء أو شرب نائما أو تسحر أو جامع على ظن عدم الفجر (أو) أوجر (مكرها) أو نائما… (قضى فقط) . یعنی اگر کسی نے خطاء روزہ توڑ دیا جیسے کلی کی اور پانی حلق میں چلا گیا، یا حالت نیند میں پانی پیا یا فجر نہ ہونے کا گمان کرتے ہوئے سحری یا جماع کیا ،زبردستی یا حالت نیند میں اُسکے منہ میں قطرے ڈالے گئے ….تو ان سب صورتوں میں فقط قضاء ہے۔
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين،كتاب الصوم ، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ٤٠١/٢]
بہارشریعت میں ہے : سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا مونھ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں جا رہا روزہ جاتا رہا۔
[ بہارشریعت، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، جلد 1 ، حصہ 5 ، مکتبۃالمدینہ ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
16 رمضان المبارک 1445ء 27 مارچ 2024ھ