ذاتی استعمال کی گاڑی اور ٹرانسپورٹ والی گاڑی پر زکوۃ

ذاتی استعمال کی گاڑی اور ٹرانسپورٹ والی گاڑی پر زکوۃ

سوال:مفتی صاحب، ایک آدمی کے ذاتی ضرورت کے لیے گاڑی ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہو گی، اور ایک ٹرانسپورٹ کے لیے ہے تو زکوٰۃ گاڑی کی مالیت پر ہو گی یا آمدن پر؟

(سائل:محمدمحافظ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

شرعاً سونے چاندی، کرنسی اور سائمہ جانوروں کے علاوہ صرف مال تجارت میں ہی زکوۃ لازم ہوتی اسکے علاوہ کسی سامان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی لہذا استعمال کی گاڑی اور ٹرانسپورٹ کی گاڑی پر زکوٰۃ لازم نہیں، کیونکہ یہ مال تجارت نہیں البتہ اس گاڑی سے حاصل ہونے والی آمدن (رقم، کرنسی) اگر بچ جائے، اور یہ آمدن تنہا یا دیگر اموالِ زکوۃ (مثلاً سونا، چاندی، روپیہ پیسہ) کے ساتھ مل کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی مقدار کو پہنچ جائے تو اب اس کی آمدن پر زکوٰۃ لازم ہو گی جبکہ زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے : الأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكي بنية التجارة عند العقد. یعنی قاعدہ یہ ہے کہ سونے، چاندی اور چرائی کے جانوروں کے علاوہ میں، بوقتِ عقد تجارت کی نیت سے ہی زکوۃ ہوگی۔ [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،کتاب الزکاۃ ]

مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے: فإن أسامها للحمل والركوب فلا زكاة فيها وإن أسامها للبيع والتجارة ففيها زكاة التجارة.

[مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الزكاة ، باب زكاة السوائم، ١٩٧/١]

ٹرانسپورٹ پر چلنے والے بسوں کے متعلق فتاوی فقیہ ملت میں ہے : زکوۃ صرف تین چیزوں پر واجب ہوتی ہے، ثمن پر خواہ وہ خلقی ہو یعنی سونا چاندی یا ثمن اصطلاحی یعنی روپیہ پیسہ ، مال تجارت، اور چرائی کے جانور، ان کے علاوہ باقی کسی چیز پر زکوۃ نہیں….اور کرایہ پر چلنے والے ٹرکوں اور بسوں کی قیمت مذکورہ چیزوں سے کوئی نہیں، لہذا زکوۃ صرف ان گاڑیوں کی آمدنی پر واجب ہے قیمت پر نہیں، اسلیے کہ کرائے پر چلانے کے سامان کمانے کے آلے ہیں اور ان پر زکوۃ نہیں۔ (فتاوی فقیہ ملت ، جلد 1 ،صفحہ 306، شبیر برادرز ،لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

09 رمضان المبارک 1445ء 20 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں