دوران جماعت بجلی چلی جائےتو مقتدیوں کا بُلند آواز سے تکبیر کہنا

دوران جماعت بجلی چلی جائےتو مقتدیوں کا بُلند آواز سے تکبیر کہنا

سوال:مفتی صاحب، میں ولنشیا کی جامع مسجد جو بہت بڑی ہے میں جمعہ پڑھ رہا تھا اچانک دوران قراءت بجلی چلی گئی، میں باہر صحن میں تھا، قراءت کی آواز نہیں آرہی تھی رکوع میں جاتے وقت مختلف لوگوں نے تکبیر کہی اور دیگر لوگ رکوع میں گئے، مسئلہ پتہ نہ ہونے کے سبب میں نے جلدی سے دوسری جگہ جمعہ دوبارہ پڑھا، کیا ایسے موقع پر لوگوں کا از خود بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور دیگر کا انکی پیروی کرنا درست تھا؟

(سائل:امجد رضا خان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں جب مقتدیوں تک امام کی آواز نہیں پہنچ رہی تھی ، تو کسی مقتدی کے لیے مستحب تھا کہ بلند آواز سے تکبیر کہے تاکہ انتقالات کا حال سب کو معلوم ہو جائے، اور ایسے موقع پر تکبیر کہنے کے لیے کسی کی اجازت یا مقرر ہونا شرط نہیں ، لہذا اس صورت میں جمعہ کی نماز ادا ہو گئی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہ تھی۔

حاجت کے وقت بلند آواز سے تکبیر کہنا مستحب اور حدیث پاک سے ثابت ہے چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے : عن أبي الزبير، عن جابر، قال: اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلينا وراءه وهو قاعد، وأبو بكر يسمع الناس تكبيره.[صحيح مسلم،کتاب الصلاۃ ، باب إئتمام المأموم]

البحرالرائق میں ہے : أنه عليه الصلاة والسلام كان إماما وأبو بكر مبلغا للناس تكبيره وبه استدل على جواز رفع المؤذنين أصواتهم في الجمعة والعيدين وغيرهما. [البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق،کتاب الصلاۃ ،باب الإمامۃ ،٣٨٦/١]

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے : واعلم أن التكبير عند عدم الحاجة إليه بأن يبلغهم صوت الإمام مكروه وفي السيرة الحلبية اتفق الأئمة الأربعة على أن التبليغ في هذ الحالة بدعة منكرة أي مكروهة وأما عند الإحتياج إليه بأن كانت الجماعة لا يصل اليهم صوت الإمام إما لضعفه أو لكثرتهم فمستحب فإن لم يقم مسمع يعرفهم بالشروع والإنتقالات ينبغي لكل صف من المقتدين الجهر بذلك إلى حد يعلمه الأعمى ممن يليهم.

[حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،کتاب الصلاۃ ،فصل فی بیان سننھا، صفحة ٢٦٢]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

04 رمضان المبارک 1445ء 15 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں