جمعہ سے پہلے کی چارسنتِ مؤکدہ
سوال:حضورایک مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ نمازِ جمعہ میں فرض سے پہلے 4رکعت سنت مؤکدہ کاکوئی ثبوت نہیں چارنفل ہیں 2تحیۃ المسجد اور2تحیۃ الوضو۔دلیل ارشادفرمائیں۔
User ID: Muhammad Shihzad Niyazi
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جمعہ سے پہلے چارسنتِ مؤکدہ ہیں کہ حدیث پاک میں جمعہ کے فرائض سے پہلے اکٹھی چاررکعات کاذکرآیاہے اورکتبِ فقہ میں فقہاءنے انھیں سنتِ مؤکدہ میں شمارکیاہے۔
ابن ماجہ میں ہے: عن ابن عباس قال: كان النبيﷺيركع من قبل الجمعة أربعا لا يفصل في شيء منهن۔ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سے پہلے چاررکعات(اکٹھی) پڑھتے۔(سنن ابن ماجہ،ص361،حدیث:1129،دارالصدیق)مصنف عبدالرزاق میں ہے: عن قتادة، أن ابن مسعود كان يصلي قبل الجمعة أربع ركعات۔۔۔ترجمہ:حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے چار رکعات پڑھتے۔(مصنف عبد الرزاق،ج3،ص246،حدیث:5524،مکتبۃ الاسلامی)درمختار میں ہے:وسن مؤکدا(أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة)۔ترجمہ:ظہروجمعہ سے پہلے کی چارسنتیں مؤکدہ ہیں۔(شامی،ج2،ص12،بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
06جمادی الاخری 1445ھ/19نومبر 2023 ء