جانور کے آگےکھانے کے لیے زندہ جانور ڈالنا
سوال:مفتی صاحب، اگر کسی نے کتا، شیر بلی وغیرہ دیگر جانور رکھے ہوئے ہوں تو کیا اُن کے پنجروں میں بکرے خرگوش،چوزے وغیرہ بطور خوراک زندہ پھینکے جا سکتے ہیں، جن کو وہ تھوڑی ہی دیر میں چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں؟
(سائل:فرحان خلیل خان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
ایسا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں، کیونکہ اس میں بے زبان جانور کو سخت اذیت ہے ، پہلے جانور کو احسن طریقے سے ذبح کیا جائے پھر اسکے گوشت کو اپنے استعمال میں لائیں یا کسی جانور کو کھلائیں،حدیث پاک میں بے زبان جانوروں پر ظلم کے معاملے میں سخت تاکید کی گئی اور ان پر رحم کرنے کا حکم دیا گیا ۔
مسلم شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے : إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته. یعنی ﷲ تعالٰی نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا جب تم قتل کرو تو احسان و بھلائی سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح بھلائی سے کرو تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرلیا کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت دے۔[مسلم، صحيح مسلم،کتاب الصید والذبائح ،١٥٤٨/٣]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إتقوا الله في هذه البهائم المعجمة . یعنی ان بے زبان جانوروں کے بارے میں ﷲ سے ڈرو۔ [السجستاني، أبو داود ،سنن أبي داود ،کتاب الجہاد، 3/23]
شعب الإيمان میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من رحم ولو ذبيحة عصفور رحمه الله يوم القيامة. یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے رحم کیا خواہ چڑیا کے ذبیحہ پر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس پر رحم کرے گا۔
[البيهقي، أبو بكر، شعب الإيمان،باب فی رحم الصغير….، ٤١٥/١٣]
بہار شریعت میں ہے : بعض لوگ مچھلیوں کے شکار میں زندہ مچھلی یازندہ مینڈ کی کانٹے میں پرو دیتے ہیں اور اُس سے بڑی مچھلی پھنساتے ہیں ایسا کرنا منع ہے کہ اُس جانور کو ایذا دینا ہے اسی طرح زندہ گھینسا(پتلا لمبا زمینی کیڑا) کانٹے میں پرو کر شکار کرتے ہیں یہ بھی منع ہے۔ [بہارشریعت، جلد 3، حصہ 17، صفحہ 694 ، مکتبۃالمدینہ ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
22 شعبان المعظم 1445ء 04 مارچ 2024ھ