تعداد زیادہ ہو توتراویح میں سجدہ سہو ترک کرنے کی اجازت
سوال:مفتی صاحب، کیا تراویح میں بھی سجدہ سہو واجب ہونے پر سجدہ سہو کرے گا، اگرچہ بڑی جماعت ہو رہی ہو یعنی پڑھنے والوں کی تعداد مسجد کے دوسرے فلور پر بھی ہو، عموما ختم قرآن پر یا آخری عشرے کی طاق راتوں اور ستائیسویں شب میں کثیر لوگ ہوتے ہیں ، کیا جمعہ و عیدین کی طرح یہاں بھی سجدہ سہو ترک کرنے کی اجازت ہے؟
(سائل:امجد رضا خان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
دیگر نمازوں کی طرح نمازِ تراویح میں بھی سجدہ سہو واجب ہو تو سجدہ سہو کرنا واجب ہے کیونکہ سجدہ سہو کا حکم تمام نمازوں (فرض واجب سنت نفل) میں ایک جیسا ہی ہے، نیز سجدہ سہو ترک کرنے کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ اگرچہ بعض مرکزی مساجد میں آخری عشرے کی طاق راتوں کے دوران یا ختم قرآن والے دن نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے لیکن فی زمانہ اس موقع پر اسپیکر کا استعمال ہوتا ہے اور اسپیکر کے ذریعے سجدہ سہو کرنے میں کوئی حرج یا فتنہ نہیں کیونکہ سب مقتدیوں کو باآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ امام نے سجدے کے لیے تکبیر کہی ہے نہ کہ سلام پھیرا لہذا بہتر ہے سجدہ سہو کیا جائے، ہاں اگر کسی امام نے اس صورت میں سجدہ سہو نہ کیا تو کُتب فقہ میں اس کی رعایت موجود ہے کہ جمعہ و عیدین کی طرح نماز تراویح میں بھی سجدہ سہو ترک کرسکتے ہیں۔
درمختار مع رد المحتار میں ہے : (والسهو في صلاة العيد والجمعة والمكتوبة والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة…..الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة.
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)کتاب الصلاۃ ،باب سجود السہو ، 2/92]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
04 رمضان المبارک 1445ء 15 مارچ 2024ھ