بینک والوں کو زمین کرائے پر دینا

بینک والوں کو زمین کرائے پر دینا

سوال:مفتی صاحب، بینک والوں کو زمین کرائے پر دینا جائز ہے یا نہیں؟

(سائل:محمد افضال رضا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

بینک میں ہونے والے سودی معاملات پر مدد کی نیت نہ ہو تو بینک والوں کو اپنی زمین کرائے پر دینا جائز ہے اور اسکے بدلے جو کرایہ ملے وہ لینا بھی حلال ہے کیونکہ فی نفسہ زمین کرائے پر دینا ایک جائز عمل ہے، اب اس زمین پر ناجائز سودی لین دین کرنا بینک والوں کا عمل ہے جس سے زمین کے مالک کا کوئی تعلق نہیں، لہذا اس صورت میں مالک زمین گنہگار نہ ہو گا البتہ ایسے لوگوں کو زمین کرائے پر دینے سے بچنا بہتر ہے۔

کنز الدقائق مع تبیین الحقائق میں ہے: (و جاز إجارة بيت ليتخذه بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) أي جاز إجارة البيت ليتخذه معبدا للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، وقد قال الله تعالى {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} وله أن الإجارة على منفعة البيت ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه لقطع نسبته عنہ. [الزيلعي ، فخر الدين، تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الكراهية، فصل فى البيع، ٢٩/٦]

مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے فوٹو گرافر کو دکان کرائے پر دینے سے متعلق سوال ہوا تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃنےارشاد فرمایا : اس شخص کو دکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے مگر یہ کہہ کر نہ دیں کہ اس میں تصویر کھینچے ، اب یہ اس کا فعل ہے کہ تصویر بناتا ہے اور عذابِ آخرت مول لیتا ہے۔ (فتاوی امجدیہ ،کتاب الاجارہ ، ج 3 ،ص 272 ،مکتبہ رضویہ ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

13 شعبان المعظم 1445ء 24 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں