بلی مرغی کا سر کاٹ لے جسم حرکت کر رہا ہوتو کیاذبح کر کے کھا سکتے ہیں؟

بلی مرغی کا سر کاٹ لے جسم حرکت کر رہا ہوتو کیاذبح کر کے کھا سکتے ہیں؟

سوال:مفتی صاحب، بلی نے مرغی کو گردن سے پکڑا اور جھٹکا دیا تو گردن الگ ہو گئی، مرغی کا بقیہ جسم تڑپ رہا تھا ، تو اس وقت ذبح کردیاکیا وہ مرغی حلال ہو گی؟

(سائل:رانا سرفراز)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

جب مرغی کی گردن الگ ہو گئی تو اب مرغی ذبح سے حلال نہیں ہو سکتی اگرچہ بوقت ذبح اُس مرغی کے جسم میں حرکت ہو،لہذا اس مرغی کو کھانا حلال نہیں۔

فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب فتاوی ہندیہ میں ہے: سنور قطع رأس دجاجة فإ نه لا يحل بالذبح،وإن كان يتحرك ، كذا في الملتقط. یعنی بلی نے مرغی کا سر کاٹ دیا تو اب وہ ذبح کے ذریعے حلال نہیں ہو سکتی، اگرچہ حرکت کر رہی ہو، ایسا ہی ملتقط میں ہے۔

[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح ،الباب الأول في ركن الذبح، ٢٨٧/٥]

بہار شریعت میں ہے : بلی نے مرغی کا سر کاٹ لیا اور وہ ابھی زندہ ہے پھڑک رہی ہے ذبح نہیں کی جاسکتی۔

[بہارشریعت ، ذبح کا بیان، جلد 3 ، حصہ 15، مکتبۃالمدینہ ]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

10 شعبان المعظم 1445ء 21 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں