بالوں کو کلر (رنگ) لگا ہو تو غسل کا حُکم
سوال:مفتی صاحب،بالوں کو کلر لگانے سے غسل ہو جاتا ہے؟
(سائل:محمد مدثر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ مہندی و کلر وغیرہ ایسے ہوں کہ جنکی تہہ نہیں جمتی محض مہندی وغیرہ کا رنگ ہی ہے تو اب غسل ہو جائے گا،عموما مہندی اور دیگر کلر کی تہہ نہیں بنتی ہے،لہذا ایسی صورت میں غسل ہو جائے گا۔
♦ اگرمہندی کلر وغیرہ ایسے ہیں کہ دھونے کے بعد بھی جسم پر انکی تہہ جم جاتی جس سے پانی جسم تک نہیں پہنچتا تو غسل نہیں ہوگا۔
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے : بقاء دسومۃ الزیت ونحوہ لا یمنع لعدم الحائل. یعنی تیل کی چکناہٹ اور اس کی مثل دیگر اشیاء ( جو جِرم دار نہ ہوں، ان) کا باقی رہنا پانی کے جسم تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہونے کی وجہ سے وضو سے مانع نہیں ۔
[حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الطھارۃ، فصل فی احکام الوضو، صفحہ 62، مطبوعہ کراچی]
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے : والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل كذا في الوجيز. یعنی خضاب جب جرم دار ہو جائے (یعنی جسم پر اسکی تہہ جم جائے) اور خشک ہو جائے تو وضو و غسل کے مکمل ہونے میں رکاوٹ بنے گا۔
[ تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، کتاب الطہارۃ ،باب الغسل، 1/13 ]
فقہ العبادات ، وضو غسل کے صحیح ہونے کی شرائط میں ہے: زوال ما يمنع وصول الماء إلى البشرة لجرم الحائل، كشمع أو شحم وكذا طلاء الأظافر. أما الدسومة التي لا جرمية لها فلا مانع كدسومة الزيت وما شابهه.
[ فقه العبادات على المذهب الحنفي، کتاب الطہارۃ ، الباب الثالث، الوضو ،ص 24]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
03 رمضان المبارک 1445ء 14 مارچ 2024ھ