اگر میں نے فلاں کام کیا تو اپنے باپ کا نہیں ،جملے کا حکم

اگر میں نے فلاں کام کیا تو اپنے باپ کا نہیں ،جملے کا حکم

سوال:مفتی صاحب، کوئی بندہ یہ کہے کہ اگر میں اپنے سسرال گیا تو میں اپنے باپ کا نہیں پھر وہ چلا جائے تو کیا یہ قسم ہو گی اور اس کا کفارہ ہو گا؟

(سائل:رضا شیرازی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

سوال میں بیان کیے گئے الفاظ قسم کے نہیں، لہذا ان الفاظ سے قسم واقع نہ ہو گی، اور یہ الفاظ بولنے کے بعد اپنے سُسرال جانے سے قسم کا کفارہ بھی نہیں ، البتہ یہ یاد رہے کہ عموماً اس قسم کے سخت جملے بولنے کے بعد اسکا خلاف کرنے پر انسان کو سخت شرمندگی کا سامنے کرنا پڑتا ہے، لہذا انسان کو ایسے الفاظ بولنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے جنکے سبب بعد میں شرمندگی ہو ، نیز ایسے جملے بول کر بعد میں اپنی بات پر قائم نہ رہنے کی صورت میں والدین کی دل آزاری کا پہلو بھی موجود ہے۔

حدیث پاک میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه. یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی مومن کے لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت و رسوائی میں پیش کرے۔

[ ابن ماجه، سنن ابن ماجه،کتاب الفتن، حدیث نمبر 4016 ، 1332/2 ]

ہدایہ شریف میں ہے : واليمين بالله تعالى أو باسم آخر من أسماء الله تعالى كالرحمن والرحيم أو بصفة من صفاته التي يحلف بها عرفا كعزة الله وجلاله وكبريائه….. ومن حلف بغير الله لم يكن حالفا كالنبي والكعبة.

[الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الأیمان ،باب ما یکون یمینا وما لا یکون یمینا، ٣١٨/٢]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

22 شعبان المعظم 1445ء 04 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں