امام صاحب کا سجدہ تلاوت کے بعد فاتحہ پڑھنا
سوال:مفتی صاحب، نمازِ تراویح میں آیت سجدہ پڑھی پھر سجدہ بھی کیا لیکن جب سجدہ سے قیام کیا تو بھولے سے فاتحہ پوری یا کچھ پڑھ لی، پھر یاد آنے پر سورت شروع کر دی تو کیا نماز ہو جائے گی ،سجدہ سہو کا کیا حکم ہے؟
(سائل:امان خان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں نماز ہو جائے گی اور اس صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں۔
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے : ولو صلى بسورة السجدة فلما سجد قام فقرأ الفاتحة ساهيا ثم قرأ تتجافى جنوبهم لا سهو عليه كذا في الواقعات. یعنی اگر کسی نے سورۃ سجدہ پڑھی ،پھر سجدے سے کھڑے ہو کر اُس نے بھولے سے فاتحہ پڑھ دی ،پھر تتجافی جنوبھم سے آگے قراءت کی تو سجدہ سہو لازم نہیں۔ [الجوهرة النيرة على مختصر القدوري،كتاب الصلاة ،باب سجود السہو، ٧٧/١]
علامہ مسعود احمد کاسانی فرماتے ہیں : ولو قرأ الحمد ثم السورة ثم الحمد – لا سهو عليه، وصار كأنه قرأ سورة طويلة.
[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة ،فصل بيان سبب وجوب سجود السهو، ١٦٧/١]
المحیط البرہانی میں ہے : ولو قرأ فاتحة الكتاب وسورة ثم قرأ فاتحة الكتاب فلا سهو عليه.وعن هذا قيل: إذا قرأ في صلاة الجمعة سورة السجدة وسجد لها ثم قام وقرأ الفاتحة وقرأ:{ننجافى جنوبهم} لا سهو عليه .
[المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب الصلاة ،الفصل السابع عشر في سجود السھو، 1/502]
بہارشریعت میں ہے : الحمد کے بعد سورت پڑھی اس کے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدۂ سہو واجب نہیں۔
(بہار شریعت ، سجدہ سہو کا بیان ، ج1 ، حصہ 4، مکتبۃالمدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
16 رمضان المبارک 1445ء 27 مارچ 2024ھ