والد صاحب کی جائیدادمیں داماد کاوراثت مانگنا
سوال:مفتی صاحب!والدصاحب کی وفات کے وقت صرف ہم دوبھائی اورایک بہن حیات تھے اسکے علاوہ انکے والدین اورنانی وغیرہ حیات نہیں تھے۔اب بہن بھی فوت ہوگئی ہے بہن کی اولاد میں سے تین بیٹے اوردوبیٹیاں ہیں جوسب بالغ ہیں اوربہن کے شوہربھی حیات ہیں،والد صاحب کی کل وراثت 6کنال زمین ہے اب ہم بھانجوں اوربھانجیوں کوکس حساب سے حصہ دیں ؟بہنوئی بھی حصہ مانگ رہے ہیں۔
User ID: Irfan Nadeem Kahout
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگربتائی گئی معلومات درست ہیں توقرض ووصیت کے بعد مانعِ ارث نہ ہونے پروالد صاحب کی کل جائیدادِ منقولہ اورغیرمنقولہ(جس میں یہ زمین بھی شامل ہوگی) کل 160حصوں پرتقسیم ہوگی۔ انکے دونوں بیٹوں کوفی کس 64،داماد کو8،تینوں نواسوں کو فی کس6اوردونوں نواسیوں کو فی کس 3 حصے دیے جائیں گے۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
06جمادی الاخری 1445ھ/19نومبر 2023 ء