مرنے کے بعد قبرمیں اعضاکی سلامتی

مرنے کے بعد قبرمیں اعضاکی سلامتی

سوال:کیامرنےکےبعدقبرمیں انسان کے گوشت،ہڈیاں سلامت رہتی ہیں یا مٹی کھاجاتی ہے کوئی حدیث ہے؟

User ID: Anonymous

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نیک لوگوں کے جسم سلامت رہتے ہیں انبیاء کاتوصحیح حدیث پاک میں صراحت سے موجود ہے کہ اللہ تعالی نے انکے جسموں کوکھانازمین پرحرام کردیاہے۔ابوداؤدشریف وغیرہ کتب حدیث میں ہے: قال إن الله عز وجل حرم على الأرض أن تأكل ‌أجساد الأنبياء۔ترجمہ:اللہ تعالی نے زمین پر انبیاء کے جسموں کوکھاناحرام کردیاہے۔(مسند امام احمد،ج26،ص84،حدیث:16162،مؤسسۃ الرسالہ)مرقاۃ میں ہے:فإن الأنبياء في قبورهم أحياء۔۔۔نعم إن الأنبياء تكون حياتهم على الوجه الأكمل، ويحصل لبعض وراثهم من الشهداء والأولياء والعلماء الحظ الأوفى بحفظ أبدانهم الظاهرة، بل بالتلذذ بالصلاة والقراءة ونحوهما في قبورهم الطاهرة إلى قيام الساعة الآخرة، وهذه المسائل كلها ذكرها السيوطي في كتاب شرح الصدور في أحوال القبور، بالأخبار الصحيحة، والآثار الصريحة۔ترجمہ:کیونکہ انبیاء قبور میں حیات ہیں۔ہاں انبیاء کی حیات کامل ہے اورانکے بعض وارثین جیسے شھداء واولیاء علماءکوبھی پوراحصہ ملتاہے کہ انکے ظاہری بدن بھی سلامت رہتے ہیں بلکہ یہ نمازوتلاوتِ قران وغیرہ کے ذریعے اپنی پاکیزہ قبروں میں قیامت تک لذت حاصل کرتے ہیں۔یہ تمام مسائل علامہ سیوطی علیہ الرحمہ نے شرح الصدور میں صحیح اورصریح اخباروآثارکیساتھ ذکرکیے۔(مرقاۃ،ج3،ص1017،حدیث:1361،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

26شعبان المعظم 1445ھ/07مارچ 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں