تہجد کے وقت وترپڑھنے سے پہلے ماہواری آگئی
سوال:اگرکوئی عورت وترصبح اداکرنے کیلئے چھوڑدے اوررات کوماہواری ہوجائے توکیاعورت گناہگارہوگی؟
User ID: Anonyoums
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت نے رات کووترنہ پڑھے تھے اورصبح طلوع فجرسے پہلے اسکے ایامِ مخصوصہ شروع ہوگئے تواسکی یہ نمازبھی ساقط ہے اور گناہگاربھی نہیں ہے۔
علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:(والمعتبر)فی حرمۃ الصلوۃ وعدم وجوبھا(فی کل وقت آخرہ مقدارالتحریمۃ اعنی قولنااللہ)بدون اکبرعنداالامام(فان حاضت فیہ سقط عنھاالصلوۃ)اداء وقضاء۔ ترجمہ:نمازکے حرام ہونے اورلازم نہ ہونے میں امام صاحب کے نزدیک ہرنمازکا آخری وقت معتبرہے جسکی مقداربغیراکبرکے صرف لفظ اللہ کہناہے۔لہذااگراس وقت میں عورت کے ایامِ مخصوصہ شروع ہوگئے تواس سے ادااورقضاکےاعتبارسے نمازساقط ہوگئی۔(رسائل ابن عابدین،جلد1،الرسالہ الرابعہ:منھل الواردین من بحارالفیض، الفصل السادس،ص110،علم الکتب)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
16رمضان المبارک 1445ھ/27مارچ 2024 ء