یہ شعر پڑھنا کیسا:”اگر تو اتنا ہی قریب ہے میری شہ رگ کے تو پھر یہ کاندھوں پہ فرشتوں کاتکلف کیسا؟
اس طرح کے اشعار پڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں کہ اس میں رب کی حکمتوں پر اعتراض کا شبہ پایا جارہا ہے جو کہ جائز نہیں۔رب کا شہ رگ سے قریب ہونا اور کراما کاتبین کا کندھوں پر ہونا قرآن سے ثابت ہے اور ان کو مامور کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے:” وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ“ ترجمہ:”اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ جب اس سے لینے والے دو فرشتے لیتے ہیں ،ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے۔“
(ق:16،17)
تفسیر:” یعنی ہم اس وقت بھی انسان کے دل کی رگ سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں جب انسان کا ہر عمل اور ہر بات لکھنے پر مامور دو فرشتے ا س کا ہر قول اور فعل لکھ لیتے ہیں ،ان میں سے ایک فرشتہ دائیں جانب نیکیاں لکھنے کیلئے اور دوسرا بائیں جانب برائیاں لکھنے کیلئے بیٹھا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے لکھنے سے بھی بے نیاز ہے کیونکہ وہ سب سے زیادہ پوشیدہ چیز کو بھی جاننے والا ہے اور نفس کے وسوسے تک اس سے چھپے نہیں ہیں البتہ یاد رہے کہ فرشتوں کا لکھنا حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کے اعمال نامے اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں ۔“
(صراط الجنان،جلد9،صفحہ463)