کسی مسلمان کا کسی کو نمستے یا نمسکار کہنا کیسا؟
نمستے یا نمسکار کا معنی ہےآداب،تسلیمات،سلام وغیرہ،لیکن چونکہ یہ لفظ ہندوؤں کے ساتھ خاص ہے کہ وہ ملتے وقت یہ کہتے ہیں لہذا مسلمان کا ایسا کہنا جائز نہیں اور دوسرا یہ کہ آداب اور تسلیمات سلام کے معنی میں ہے اور غیر مسلم کو سلام کرنے کی بھی اجازت نہیں لہذا سلام کی نیت سے بھی نہیں کہہ سکتے۔فیروز اللغات میں ہے:”نمستے:بندگی،آداب،تسلیم۔“(فیروز اللغات،صفحہ588)
بہار شریعت میں ہے:” کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف علیکم کہے۔“
(بہار شریعت،جلد3،حصہ16،صفحہ461)
اسی میں ہے:” اس زمانہ میں کئی طرح کے سلام لوگوں نے ایجاد کرلیے ہیں۔ ان میں سب سے بُر ا یہ ہے جو بعض لوگ کہتے ہیں بندگی عرض یہ لفظ ہر گز نہ کہا جائے۔ آداب عرض کہتے ہیں، اگرچہ اس میں اتنی برائی نہیں مگر سنت کے خلاف ہے۔ بعض لوگ تسلیم یا تسلیمات عرض کہتے ہیں، اس کو سلام کہا جاسکتا ہے کہ یہ سلام ہی کے معنی میں ہے۔“ (بہار شریعت،جلد3،حصہ16،صفحہ465)
ا