میں نے سفر کیا اورآبادی سے باہر ہونے کے بعد راستے میں نماز عشامکمل پڑھی کیونکہ مجھے مسافت معلوم نہیں تھی بعد میں مجھے پتا چلا کہ مسافت 92کلومیٹر سے زیادہ ہے تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟
اگر کوئی شخص سفر شرعی کر رہا ہو تو اپنے شہر کی آبادی سے باہر نکلنے کے بعد راستے میں وہ قصر نماز ادا کرے گا،اب اگر لا علمی میں کسی نے پوری نماز پڑھ لی اور بعد میں اسے معلوم ہو کہ مسافت شرعی بنتی ہےا تو اب اس نماز کو دو رکعت کر کے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔بنایہ شرح ھدایہ میں ہے:”اذا صلی اربعا متعمدا اعادھا“یعنی:جب مسافر جان بوجھ کر چار رکعت پڑھ لے تو اس نماز کو (دو کرکے )دوبارہ پڑھے۔
(بنایہ،جلد3،صفحہ9،دار الکتب العلمیہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:”جس پر شرعا قصر ہے اس نے جہلا(پوری) پڑھی اس پر مواخذہ ہے اوراس نماز کا پھیرنا واجب۔“
(فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ270)