میں صرف اپنی معلومات کے لئے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کی اولاد نہ ہو تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

میں صرف اپنی معلومات کے لئے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کی اولاد نہ ہو تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

وراثت کی تقسیم کاری کے اصول قرآن و حدیث میں موجود ہیں کہ کن وارثوں کی موجودگی میں کن کو کتنا حصہ ملے گا ،یعنی بعض قریبی رشتے داروں کی موجودگی میں دور والے محروم ہوجاتےہیں یا ان کے حصوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے اس لئے مطلقا اس بارے میں نہیں کہا جاسکتاجب تک وارثوں کی تفصیل معلوم نہ ہو البتہ بعض اصول سمجھے جا سکتے ہیں۔اولا یہ یاد رکھیں کہ اولاد ہو یا نہ ہو ماں، باپ بیوی یا شوہر کبھی محروم نہیں ہوتے البتہ بعض صورتوں میں حصے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔تو اگر میت کے ماں باپ دونوں حیات ہوں اور میت کی بیوی یا شوہر بھی زندہ ہوں اور میت کے بھائی بہن نہ ہوں تو بیوہ ہو تو اس کو چوتھائی اور شوہر ہو تو اس کو نصف دینے کے بعد والدہ کو باقی بچے ہوئے کا تہائی(1/3) دیں گے اور باقی سارا والد کو ملے گا اوراگر میت کے بھائی بہن ہوں تو اگر ایک ہی ہے تو والدہ کو کل مال کا تہائی دیا جائے گا اور اگر کم از کم دو ہوں تو والدہ کو کل مال کا چھٹا(1/6) دے کر باقی والد کو دیا جائے گا۔اگر میت کی والدہ نہ ہو تو سارا مال والد کو ملے گا اور اگر والدہ نہ مگر بیوی ہو تو بیوی کو چوتھائی(1/4) دینے کے بعد باقی والد کو ملے گا۔اگر والد نہ ہو مگر والدہ اور بیوی یا کوئی بھی ایک ہو اور ساتھ میں بہن بھائی ہوں تو بیوی اور والدہ کو اوپر بیان کی گئی تفصیل کے مطابق دینے کے بعد باقی بہن بھائیوں کو دیا جائے گا۔اسی طرح والدین نہ ہوں مگر نانی،دادی اور دادا ہوں تو بھی احکام میں فرق آجائے گا۔

(ماخوذا:کتب میراث)

اپنا تبصرہ بھیجیں